مکہ پر حملے کا پروپیگنڈا، تکفیری حلقوں کے کفر کے فتوے اور حقیقت
شیعیت نیوز : سعودی رجیم کی جانب سے مکہ مکرمہ کے علاقے میں ایک یمنی ڈرون روکنے کے دعوے کے بعد پاکستان اور عرب دنیا کے تکفیری اور سعودی نواز حلقوں نے یمنی عوام اور انصار اللہ کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی ہے، جس میں انہیں حرمین شریفین کا دشمن، باغی اور کافر تک قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے 3 نومبر کو جاری بیان میں "مکہ مکرمہ کے علاقے میں حوثیوں کے حملے” پر شدید تشویش ظاہر کی اور اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سے محض مذمت کے بجائے "عملی اقدامات” کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح سعودی نواز یمنی عالم عبداللہ بن غالب الحمیری نے 4 نومبر کو ایک طویل تحریر میں انصار اللہ کو "گمراہ باغی گروہ” قرار دیتے ہوئے ان سے جنگ کو شرعاً جائز ٹھہرانے اور غیر جانبداری کو رد کرنے کی کوشش کی۔
سوشل میڈیا پر بھی تکفیری اکاؤنٹس یمنیوں کے لیے "مجوسی حوثی کافر” اور "حوثی کافر کے بچے” جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، اور یہی حلقے ماضی میں سعودی بمباری پر جشن منانے اور یمنیوں کو دہشت گرد کہنے میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اردو تکفیری اکاؤنٹ سعودی بمباری پر جشن منانے اور یمنیوں کو کافر کہنے میں مصروف
ان الزامات کے جواب میں یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے واضح کیا کہ اس روز سعودی سرزمین پر کوئی کارروائی کی ہی نہیں گئی، اور مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا الزام ایک پرانا جھوٹ ہے جو سعودی رجیم ہر شکست کے بعد دہراتا ہے۔ صنعا کے نائب گورنر حمید عاصم نے کہا کہ مکہ اور مدینہ یمنی عوام کے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہیں اور یمنی افواج کے لیے ممنوعہ ہیں۔
یمنی مبصرین نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ سعودی اتحاد کے بیان میں "منطقہ مکہ” کا ذکر تھا، جو جدہ اور طائف سمیت پورا صوبہ ہے، نہ کہ شہر مکہ۔ اسی دوران سعودی طیاروں نے تعز کے گاؤں جاشع کی ایک مسجد پر بمباری کی، جس پر یمن کی قومی ہیئت برائے انسانی حقوق نے سوال اٹھایا کہ یمن میں مساجد پر بمباری کرنے والے کس منہ سے حرمین کے تحفظ کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو حلقے مکہ کے نام پر یمنیوں کے خلاف کفر کے فتوے دے رہے ہیں وہ 13 جولائی سے اب تک 3830 سے زائد سعودی حملوں اور 232 یمنی شہریوں، جن میں 68 بچے اور 35 خواتین شامل ہیں، کی شہادت پر خاموش ہیں۔ یمنی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دوہرا معیار ہی سعودی جارحیت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔







