علامہ محمد جمعہ اسدیؒ حقیقی معنوں میں دین و ملت کے خادم تھے، تعزیتی ریفرنس سے علماء کا خطاب
علامہ محمد جمعہ اسدی
شیعیت نیوز : بلوچستان کے ممتاز عالم دین، سابق امام جمعہ کوئٹہ اور پرنسپل جامعہ امام صادقؑ مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ محمد جمعہ اسدی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں جنرل محمد موسیٰ کالج کوئٹہ میں ایک پروقار تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ اس تقریب میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، سربراہ امتِ واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی، جے یو آئی رہنما مولانا محمد خان شیرانی، علامہ محمد رمضان توقیر، مولانا ہدایت الرحمان بلوچ سمیت دیگر جید علماء، اساتذہ، طلبہ اور عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد جمعہ اسدیؒ حقیقی معنوں میں دین و ملت کے خادم تھے۔ انہوں نے مرحوم کی جانب سے جامعہ امام صادقؑ اور امام خمینی ہسپتال سمیت متعدد اداروں کے قیام کو سراہتے ہوئے ان کی ادارہ سازی کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اہل خانہ اور شاگردوں پر زور دیا کہ مرحوم کے علمی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے ایک جامع کتابچہ مرتب کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے کردار سے استفادہ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : خواتین اسلامی معاشرے کی تعمیر و تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، آیت اللہ ریاض نجفی
سربراہ امتِ واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی علم، اخلاص اور خدمتِ دین سے عبارت تھی اور وہ علم و عمل کے درمیان ایک مضبوط تعلق کے قائل تھے۔ اسی طرح علامہ محمد رمضان توقیر، شیخ اسحاق نجفی، مولانا اکبر زاہدی اور مولانا مشتاق عمرانی نے بھی مرحوم کی فکری و عملی اصلاح، معاشرتی خدمات اور حوزاتِ علمیہ کے لیے کی گئی مخلصانہ جدوجہد کو نوجوان علماء کے لیے اخلاص، استقامت اور خدمتِ دین کا روشن نمونہ قرار دیا۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی اور جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ سمیت دیگر مقررین نے بھی مرحوم کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ مرحوم کی رحلت اگرچہ ایک بڑا نقصان ہے، تاہم ان کا علمی و تربیتی سرمایہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ تقریب کے اختتام پر علامہ جمعہ اسدیؒ کے ایصالِ ثواب، بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی گئی۔







