مسلم امہ کا زوال نظامِ مصطفیٰؐ سے دوری کا نتیجہ ہے، بلتستان یونیورسٹی میں سیرت النبیؐ سیمینار

30 اگست, 2026 10:15

شیعیت نیوز : بلتستان یونیورسٹی اسکردو میں حضور نبی کریم (ص) کی ولادت باسعادت اور سیرت طیبہ کی ترویج کے لیے "اسوہ حسنہ کی روشنی میں نوجوانوں کی ذمہ داریوں کا تعین” کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر نے کہا کہ نبی کریم (ص) کی ذات کائنات کے لیے عظیم نمونہ ہے، اور نوجوانوں کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں مثبت، علمی اور اخلاقی انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل مشیر امورِ طلبہ ڈاکٹر محمد ریاض نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے سیمینار کا مقصد طلبہ میں سیرت کی عملی ترویج، اخلاقی تربیت اور اسلامی ذمہ داریوں کا احساس بیدار کرنا قرار دیا۔ اس سیمینار کا مشترکہ اہتمام دفتر مشیر امورِ طلبہ اور علوم اسلامی کے اساتذہ نے کیا، جس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں : ہفتہ وحدت اور عید میلاد النبیؐ پر پروقار تقریب، امت کو درپیش چیلنجز کا حل اتحاد ہے، علامہ مقصود ڈومکی

معروف عالم دین شیخ سجاد حسین مفتی نے اپنے فکری خطاب میں کہا کہ رسول اللہ (ص) کی ذات عقل، گفتار اور کردار جیسی اعلیٰ ترین صفات کا مجموعہ ہے اور آپ (ص) کی روح مبارک نورانیت کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ کے زوال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مغرب نے مذہب چھوڑ کر دنیاوی ترقی حاصل کی، لیکن مسلمانوں کی پستی کی بڑی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے مذہب ترک کیا مگر پھر بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو سکے۔

شیخ سجاد مفتی نے مزید کہا کہ دین محمدی (ص) دراصل تعلیم، تحقیق، مشاہدہ، اور تخلیق کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا ماضی بعثتِ نبوی (ص) اور مستقبل مہدوی حکومت تک محیط ہے، لیکن فی الحال ہم غلامی اور جمود کا شکار ہیں کیونکہ ہم نبی کریم (ص) سے عقیدت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان کا لایا ہوا مکمل نظامِ زندگی عملی طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

11:11 صبح اگست 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔