قافلۂ اسیرانِ کربلا: صبر، استقامت اور حق کی فتح کا عظیم سفر
شیعیت نیوز : 19 محرم الحرام 61 ہجری، تاریخِ کربلا کا وہ دردناک اور فیصلہ کن مرحلہ ہے جب حضرت امام حسین علیہ السلام کے اہلِ بیتؑ اور جانثاروں کے لٹے ہوئے قافلے کو کوفہ سے شام کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ وہ مقدس قافلہ تھا جس نے میدانِ کربلا میں فرزندِ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت عباس علمدار علیہ السلام، حضرت علی اکبر علیہ السلام، جوانانِ بنی ہاشم اور وفادار اصحاب کی عظیم قربانیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں، مگر ان تمام مصائب کے باوجود نہ ان کے ایمان میں لغزش آئی اور نہ ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : شہید رہبر کی نماز جنازہ آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی کی امامت میں ادا
کربلا کی سرزمین ابھی شہدائے حق کے خون سے معطر تھی، اہلِ بیتؑ کے خیمے جلائے جا چکے تھے، بچے یتیم اور خواتین اسیر ہو چکی تھیں، مگر اسی حالت میں اس مقدس قافلے کو کوفہ سے شام کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ ظاہری طور پر یہ اسیری کا سفر تھا، لیکن حقیقت میں یہی سفر پیغامِ کربلا کی عالمگیر اشاعت کا ذریعہ بنا۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اس سفر کے ہر مرحلے میں بے مثال صبر، استقامت، بصیرت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے تاریخی خطبات نے ظالم حکمرانوں کے چہروں سے نقاب اتار دیا اور یزیدی اقتدار کی حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔
ظالم حکمرانوں نے اہلِ بیتِ رسولؐ کو ہر ممکن اذیت پہنچانے کی کوشش کی۔ انہیں شہداء کے بے سر جنازوں کے درمیان سے گزارا گیا، بازاروں اور گلیوں میں پھرایا گیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرائی گئیں، لیکن آلِ محمدؐ نے ہر آزمائش کا سامنا صبر، رضا اور توکل کے ساتھ کیا۔ اسی صبر نے ظلم کو شکست دی اور اسیری کو تاریخ کی عظیم ترین فتح میں بدل دیا۔
پیغامِ کربلا: قافلۂ اسیرانِ کربلا کا سفر آج بھی انسانیت کو یہ درس دیتا ہے کہ حق کا راستہ آزمائشوں سے ضرور گزرتا ہے، لیکن اس کا انجام عزت اور کامیابی ہے۔ ظلم، جبر، قید و بند اور مصائب اہلِ حق کے عزم کو کمزور نہیں کرتے بلکہ انہیں مزید مضبوط بناتے ہیں۔
آج محرم الحرام کے ایام میں جب ان مصائب کو یاد کیا جاتا ہے تو اہلِ ایمان کے دل غمِ حسینؑ سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ یہ غم مایوسی کا نہیں بلکہ ایمان، وفاداری، حق پسندی اور محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تجدید کا نام ہے۔
تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی







