یوم علی اصغرؑ: مظلوم بچے کی قربانی کا زندہ پیغام
شیعیت نیوز : ماہ محرم الحرام صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ انسانیت، وفا، صبر، ایثار اور حق کی سربلندی کا ایک زندہ پیغام ہے۔ واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے عشرۂ محرم میں مختلف ایام منائے جاتے ہیں۔ انہی میں ایک اہم دن یوم علی اصغرؑ ہے، جو بالخصوص عشرۂ اول محرم کے پہلے جمعہ کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن کربلا کے اس ننھے شہید کی یاد میں مخصوص ہے جس نے اپنی کم سنی کے باوجود تاریخ انسانیت میں مظلومیت اور حقانیت کی سب سے بڑی گواہی پیش کی۔
حضرت علی اصغرؑ کون تھے؟ حضرت علی اصغرؑ، امام حسین علیہ السلام کے کم سن فرزند تھے۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ کا نام عبداللہ بھی بیان ہوا ہے، جبکہ علی اصغر آپ کا معروف لقب ہے۔ آپ کی والدہ گرامی حضرت رباب سلام اللہ علیہا تھیں۔
کربلا کے میدان میں جب امام حسین علیہ السلام کے تمام اصحاب اور اہل بیت کے کئی افراد شہید ہو چکے، تو امام حسینؑ اپنے شیر خوار بچے کو میدان میں لائے۔ آپؑ نے یزیدی لشکر سے فرمایا کہ اگر مجھ سے کوئی اختلاف ہے تو اس بچے کا کیا قصور ہے؟ اسے پانی دے دو۔ مگر ظلم کی انتہا یہ ہوئی کہ اس معصوم بچے کو بھی تیر کا نشانہ بنایا گیا اور آپؑ شہید ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : عزاداری امام حسین علیہ السلام ہماری عبادت کا حصہ ہے، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، شیعہ علماء کونسل پنجاب
حضرت علی اصغرؑ کی شہادت نے کربلا کے پیغام کو پوری انسانیت کے سامنے مزید واضح کر دیا کہ ظلم کسی عمر، جنس یا طاقت کو نہیں دیکھتا، جبکہ حق کی قربانی ہر سطح پر عظمت رکھتی ہے۔
یوم علی اصغرؑ پہلے جمعہ کو کیوں منایا جاتا ہے؟ عشرۂ محرم کے پہلے جمعہ کو یوم علی اصغرؑ منانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کا دن اسلامی روایات میں عظمت، اجتماع اور دعا کا دن سمجھا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر کے عزاداران امام حسینؑ حضرت علی اصغرؑ کی مظلومانہ شہادت کو یاد کرتے ہوئے کربلا کے اس پہلو کو اجاگر کرتے ہیں کہ امام حسینؑ کی قربانی صرف میدان جنگ تک محدود نہیں تھی بلکہ آپؑ نے اپنے ننھے بچے سمیت تمام عزیزوں کو خدا کی راہ میں قربان کیا۔
اس دن کا مقصد شیر خوار شہید کربلا کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ مظلوم کی آواز ہمیشہ زندہ رہتی ہے، ظلم کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینا ضروری ہے اور بچوں کی حرمت اور انسانی حقوق کی حفاظت ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
یوم علی اصغرؑ کا آغاز کب اور کہاں ہوا؟ یوم علی اصغرؑ کی موجودہ عالمی شکل ایک منظم تحریک کے طور پر بیسویں صدی کے اواخر میں سامنے آئی۔ اس کا آغاز ایران میں ہوا جہاں محرم کی مجالس میں حضرت علی اصغرؑ کی یاد کو خصوصی انداز میں پیش کیا جانے لگا۔
بعد ازاں "عالمی شیر خوارگان حسینیؑ” کے عنوان سے ایک منظم پروگرام شروع ہوا جس میں دنیا کے مختلف ممالک میں محرم کے پہلے جمعہ کو ماؤں اور بچوں کی شرکت کے ساتھ حضرت علی اصغرؑ کی یاد میں اجتماعات منعقد کیے جانے لگے۔
اس تحریک کے آغاز کا سہرا بالخصوص ایران کے مذہبی و ثقافتی حلقوں سے وابستہ منتظمین کے سر جاتا ہے، جنہوں نے حضرت علی اصغرؑ کی مظلومیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اس دن کو منظم شکل دی۔ وقت کے ساتھ یہ پروگرام عراق، پاکستان، بھارت، لبنان، یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک تک پھیل گیا۔
یوم علی اصغرؑ کے اجتماعات میں کیا ہوتا ہے؟ یوم علی اصغرؑ کے موقع پر دنیا بھر میں مختلف انداز کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں:
- مجالس عزا علماء و ذاکرین حضرت علی اصغرؑ کی سیرت، شہادت اور واقعۂ کربلا کے اس پہلو پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان مجالس میں امام حسینؑ کے پیغام حق و حریت کو بیان کیا جاتا ہے۔
- شیر خوار بچوں کی شرکت مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو حسینی لباس پہنا کر یا مخصوص انداز میں شریک کرتی ہیں، تاکہ حضرت علی اصغرؑ کی یاد تازہ ہو اور بچوں کی تربیت میں محبت اہل بیتؑ کا جذبہ اجاگر ہو۔
- لوریاں اور مرثیے حضرت علی اصغرؑ کی مظلومیت پر نوحے، مرثیے اور سلام پیش کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے کربلا کے دردناک پہلو کو بیان کیا جاتا ہے۔
- سبیل اور نیاز کا اہتمام بعض مقامات پر پانی کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں تاکہ کربلا میں حضرت علی اصغرؑ اور دیگر اہل بیتؑ کی پیاس کی یاد تازہ ہو۔
- دعا اور عہد شرکاء مظلوموں کی حمایت، بچوں کے تحفظ اور حسینی اقدار پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔
یوم علی اصغرؑ کا پیغام حضرت علی اصغرؑ کا ذکر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق کی پہچان عمر، طاقت یا تعداد سے نہیں ہوتی۔ ایک چھ ماہ کے بچے کی قربانی نے دنیا کو یہ دکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا تاریخ کا حصہ نہیں بنتا بلکہ حق کے لیے قربانی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
اختتامیہ عشرۂ اول محرم کا پہلا جمعہ یوم علی اصغرؑ کے طور پر منانا کربلا کے سب سے معصوم شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ دن دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مظلوم کی فریاد کبھی ختم نہیں ہوتی اور حق کی قربانی ہمیشہ تاریخ کے صفحات پر روشن رہتی ہے۔
حضرت علی اصغرؑ کی قربانی کربلا کی وہ آواز ہے جو ہر دور کے انسان کو ظلم کے مقابلے میں انسانیت، عدل اور حق کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔







