سوم محرم الحرام: ابن زیاد ملعون کا دھمکی آمیز خط، امام حسینؑ کا بامعنی جواب
شیعیت نیوز : سوم محرم الحرام 61 ہجری کا وہ اہم دن تھا جب تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین معرکہ حق و باطل کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔
کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد ملعون نے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں ایک نہایت سخت اور دھمکی آمیز خط روانہ کیا۔ اس نے لکھا: "اے حسینؑ! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ سرزمین کربلا میں پہنچ چکے ہیں۔ یزید (لعنۃ اللہ علیہ) نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب تک میں آپ کو قتل نہ کر دوں یا آپ کو اپنی اور یزید کی بیعت پر مجبور نہ کر لوں، نہ آرام کروں گا اور نہ شکم سیر ہو کر کھانا کھاؤں گا۔”
یہ بھی پڑھیں : عاشورہ اور اربعین کے مقدس ایام قریب آتے ہی زائرین کربلا نئی پابندیوں اور ذہنی اذیت کا شکار
امام حسین علیہ السلام نے نہایت وقار، استغنا اور اطمینان کے ساتھ فرمایا: "اس خط کا کوئی جواب نہیں، اس کا جواب اللہ کا عذاب ہے۔”
اس روز عمر سعد ملعون کربلا پہنچا اور امام حسین علیہ السلام کے پاس قاصد بھیجنا چاہا۔ حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے قرہ بن قیس کی نصیحت کی کہ وہ ظالموں کی طرف واپس نہ جائے بلکہ حق کے قافلے میں شامل ہو جائے۔
مولانا سید علی ہاشم عابدی نے یہ واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کربلا ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ پیغام اور دائمی درسگاہ ہے۔







