ایران کا ڈیجیٹل ہتھیار: آبنائے ہرمز میں فائبر آپٹک کیبلز پر ممکنہ کنٹرول
شیعیت نیوز : صیہونی ویب سائٹ اسرائیل نیوز نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ جس طرح 1973 میں عرب ممالک نے تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا، ویسے ہی 2026 میں ایران نے انٹرنیٹ اور ڈیٹا کی ترسیل کے اہم راستوں پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز پر ایران کے ممکنہ کنٹرول اور نگرانی کا منصوبہ عالمی معیشت کے لیے ایک حقیقت پسندانہ اسٹریٹجک خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونی فوج میں مایوسی عروج پر: لبنان جنگ کی کوئی واضح حکمت عملی نہیں، ہارٹز کا انکشاف
اسرائیل نیوز نے نشاندہی کی کہ آبنائے ہرمز نہ صرف تیل کی تجارت کا مرکزی راستہ ہے بلکہ دنیا کی اہم ترین ڈیجیٹل شاہراہ بھی ہے۔ روزانہ 10 ٹریلین ڈالر سے زائد کے مالیاتی لین دین اور سات بڑے مواصلاتی سسٹم (FALCON، GBI اور Gulf-TGN سمیت) اسی راستے سے گزرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران ان کیبلز پر نگرانی، روٹنگ یا مرمت کا اختیار حاصل کر لیتا ہے تو یہ اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے لیے بڑا ہتھیار بن جائے گا۔ اسرائیلی میڈیا نے امریکی حکومت پر بھی تنقید کی کہ واشنگٹن کی توجہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر ہے جبکہ تہران نے سمندر کی تہہ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔







