حکومت نے 10 ماہ میں ہی 100 ارب روپے اضافی پیٹرولیم لیوی وصول کر لیے، عوام پر مسلسل بوجھ، علامہ سید احمد اقبال رضوی

11 مئی, 2026 14:13

شیعیت نیوز : ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی ہدف کو مقررہ 11 ماہ کے بجائے 10 ماہ میں پورا کر کے اضافی 100 ارب روپے عوام سے وصول کرنا اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ مالی بوجھ مسلسل عام شہریوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

مہنگائی، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی لیوی دراصل عوامی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت ریونیو بڑھانے کے لیے عوام پر فوری بوجھ ڈال سکتی ہے تو پھر وہ ان شعبوں کی جانب کیوں نہیں بڑھتی جہاں حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ کی بڑی گنجائش موجود ہے؟ بدقسمتی سے ملک میں ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر بدستور ٹیکس نظام کا سب سے بڑا کمزور حصہ ہے، جہاں اربوں روپے کی معاشی سرگرمیاں ہونے کے باوجود ٹیکس وصولی انتہائی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دبئی سے پاکستانی شیعہ مزدوروں کی بڑے پیمانے پر جلاوطنی، عقیدے کی بنیاد پر ظلم

مختلف معاشی رپورٹس میں بارہا نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹیکس شارٹ فال کا ایک بڑا سبب یہی شعبہ ہے، مگر سیاسی مصلحتوں، ووٹ بینک اور مفاداتی سیاست کے باعث اس سیکٹر کو مؤثر ٹیکس نیٹ میں لانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت واقعی معاشی انصاف چاہتی ہے تو اسے تنخواہ دار طبقے، مزدور، کسان اور عام صارفین پر مسلسل بوجھ ڈالنے کے بجائے ان بااثر طبقات کو بھی قانون کے یکساں دائرے میں لانا ہوگا جو دہائیوں سے ٹیکس نظام سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔

ریاست کی ذمہ داری صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ منصفانہ ٹیکس پالیسی بنانا بھی ہے۔ جب ایک طرف پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عام آدمی کی جیب پر اضافی بوجھ ڈالا جائے اور دوسری طرف بڑے تجارتی و کاروباری سیکٹر سیاسی وجوہات کی بنیاد پر رعایت پاتے رہیں، تو یہ معاشی ناانصافی اور طبقاتی ترجیحات کا تاثر مضبوط کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس نظام کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر کر کے ہر شعبے پر یکساں لاگو کرے، تاکہ قومی معیشت کا بوجھ صرف کمزور طبقے ہی نہ اٹھاتے رہیں بلکہ ہر صاحبِ استطاعت طبقہ اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

8:29 شام مئی 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔