امریکہ، ایران مذاکرات اور عالمی طاقتوں کی کشمکش، اہم انکشافات سامنے آگئے

19 اپریل, 2026 17:03

شیعیت نیوز : تحریر: لیاقت بلوچ (نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ہاتھوں بدترین شکست اور دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے پہلے مذاکراتی دور میں تعطل کے بعد اب اگلے مذاکراتی دور کے لئے پاکستان آمد اور ایران کیساتھ باقاعدہ معاہدے کے خواہاں ہیں۔ گزشتہ دِنوں واشنگٹن پوسٹ کیساتھ اپنی بات چیت میں انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’اگلے دو دنوں میں‘ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اخبار کو بتایا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔‘ صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ‘بہت اچھا کام’ کر رہے ہیں۔‘ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور اور اِس کی کامیابی کے حوالے مسلسل اِسی نوعیت کے بیانات دیتے نظر آرہے ہیں۔ امریکی صدر نے مذاکرات کے پہلے دور کے لئے پاکستان آئے صحافیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ابھی اسلام آباد میں ہی رُکے رہیں، جبکہ دوسری طرف امریکی میڈیا یہ خبر بھی دے رہا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے بھی جے ڈی وینس ہی اسلام آباد جائیں گے۔

قبل ازیں 11 اور 12 اپریل 2026ء کی درمیانی شب اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 21 گھنٹے تک جاری رہا، تاہم فریقین کسی باقاعدہ معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور اب اِنہی مذاکرات کے تسلسل میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امریکی انتظامیہ بالخصوص امریکی صدر اور نائب صدر کی طرف سے براہِ راست اِس خواہش کے اظہار پر مبنی بیانات سامنے آرہے ہیں۔ چین، برطانیہ اور روس سمیت متعدد یورپی ممالک بھی مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان 47 سال بعد پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے براہِ راست مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اُن کے ساتھ دیگر دو مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر شریک تھے جبکہ ایرانی وفد کی قیادت ایران اسمبلی کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کی اور اُن کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت 70 ارکان پر مشتمل ٹیم موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی فضائی دفاع نے 170 سے زائد دشمن ڈرون مار گرائے: کمانڈر امیر الہامی

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ایرانی نژاد پروفیسر ولی نصر نے سی بی سی کے فرنٹ برنر پوڈ کاسٹ پر وہ بات کہی ہے جو اس پورے مذاکراتی عمل کی تصویر کشی کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”اتنا بڑا وفد صرف اس وقت بھیجا جاتا ہے جب مذاکرات اپنے آخری مراحل میں ہوں، ابتدائی جائزے کے لیے نہیں۔” نصر کا کہنا تھا کہ ایران وینس کو کمرے میں اس لیے چاہتا ہے کہ پیغام سیدھا ٹرمپ تک پہنچے۔ تہران کا نقطہ نظر یہ تھا کہ وِٹکوف اور کُشنر کو ”مسائل پر گرفت نہیں تھی” اور انہوں نے شاید وائٹ ہاؤس کو ”غلط تصویر” پیش کی۔

نیویارک ٹائمز نے ایرانی سینئر عہدیداروں کا حوالہ دے کر لکھا کہ رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے قالیباف کو اختیار دیا کہ ”یا مذاکرات مکمل کرو یا ختم کرو۔ سیاہ یا سفید۔ بیچ کا رنگ نہیں”۔ دونوں وفود نے رات بھر طویل مذاکرات کے بعد دستاویزات کا باہمی تبادلہ کیا۔ امریکہ نے مذاکرات سے قبل اپنے 15 نکات پیش کئے تھے جبکہ ایران نے اُن کے جواب میں 10 نکات پیش کئے۔

ایران کے 10 مطالبات میں: (1) امریکہ کی طرف سے مستقبل میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، (2) آبنائے ہرمز پر ایران کی فوجی نگرانی، (3) ایران کا یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کیا جانا، (4) ایران کے حوالے سے عائد کردہ تمام بنیادی امریکی پابندیوں کا خاتمہ، (5) امریکہ پر تمام ثانوی پابندیوں کا بھی خاتمہ، (6) ایران پر پابندیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں کی منسوخی، (7) بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تمام اینٹی ایران فیصلوں کی منسوخی، (8) حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے ایران کے نقصانات کے معاوضہ کی ادائیگی، (9) خطے سے امریکی جنگی افواج کا مکمل انخلاء اور (10) لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی شرائط شامل تھیں۔

1979ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران اور امریکہ میں اعلیٰ سطح پر براہ راست آمنا سامنا ہوا ہے۔ سفارتکاری کے اس پیچیدہ مرحلے میں اختلافات کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں کسی بڑے معاہدے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

6:14 شام اپریل 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔