ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوالات، جے ڈی وینس دباؤ میں

14 اپریل, 2026 02:20

شیعیت نیوز : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی متنازع اور دلچسپ شخصیت کے باعث جانے جاتے ہیں، خصوصاً فیصلوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے حوالے سے، اور اب ایسا لگتا ہے کہ ان کے نائب صدر جے ڈی وینس ان کے اگلے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران ٹرمپ نے مذاق میں کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ ہو گیا تو وہ اس کا سارا کریڈٹ خود لیں گے، لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو اس کی ذمہ داری جے ڈی وینس پر ڈال دی جائے گی۔

اب جبکہ جے ڈی وینس اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹ چکے ہیں، تو یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا ٹرمپ واقعی خود کو بچانے کے لیے اپنے نائب کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ، شیعہ ہزارہ برادری کے تحفظ سے متعلق اجلاس

جے ڈی وینس کے لیے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا شروع سے ہی ایک مشکل مشن تھا۔ ٹرمپ نے کسی تجربہ کار سفارت کار کے بجائے وینس کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ وہ انتظامیہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے بڑے مخالف سمجھے جاتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی قیادت اپنی شرائط پر قائم ہے، جن میں آبنائے ہرمز پر ٹیکس وصول کرنے کا حق اور ایٹمی پروگرام ختم کیے بغیر پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ جب وینس نے ایٹمی پروگرام ترک کرنے کی تجویز دی تو ایرانی وفد نے اسے مسترد کر دیا۔

اس پوری صورتحال میں ٹرمپ کا بدلتا ہوا رویہ بھی توجہ کا مرکز ہے۔ کبھی وہ ایران کی تجاویز ماننے کی بات کرتے ہیں اور کبھی اچانک سخت اقدامات جیسے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، جب وینس اسلام آباد میں مذاکرات میں مصروف تھے، اسی دوران ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ امریکا جنگ جیت چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ایک امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ کو بتایا کہ جے ڈی وینس کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے کیونکہ وہ کئی معاملات پر صدر سے اختلاف کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس مارکو روبیو جیسے رہنما ٹرمپ کے فیصلوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس کو نکولس مادورو کی گرفتاری سے متعلق مبینہ منصوبہ بندی سے بھی دور رکھا گیا تھا، جو ان کے کم ہوتے اثر و رسوخ کی ایک اور علامت سمجھا جا رہا ہے۔

12:24 شام اپریل 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔