دی اکانومسٹ: ٹرمپ ایران کے خلاف نئی جنگ سے گریز کریں گے
شیعیت نیوز : برطانوی جریدے The Economist نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے اور اب وہ سمجھ چکے ہیں کہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جریدے کے مطابق ہر جنگ میں کم از کم کسی ایک کی شکست ہوتی ہے، اور اگر ایران میں جاری جنگ سیز فائر پر ختم ہوئی تو سب سے بڑی سیاسی شکست ٹرمپ کو ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف اس جنگ نے امریکی طاقت کو استعمال کرنے کے نئے طریقے کے حوالے سے ٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے۔ جریدے کے مطابق ٹرمپ کے ایران کو تباہ کرنے سے متعلق اشتعال انگیز بیانات اب ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں ایرانی قونصل جنرل سے جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا کے وفد کی ملاقات
دی اکانومسٹ کے مطابق ٹرمپ جانتے ہیں کہ نئی جنگ عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرے گی اور ان کے سنہری دور کے دعوے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے تین بڑے مقاصد، یعنی مشرق وسطیٰ کو محفوظ اور خوشحال بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا، بڑی حد تک حاصل نہیں ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بھی پسپائی کی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ اس کے رہنما مسلسل نشانہ بن رہے ہیں جبکہ توانائی اور نقل و حمل کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے ملک کو چلانا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اسے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں ہے۔
جریدے نے مزید کہا کہ ایران کے پاس مؤثر بحری یا فضائی طاقت محدود ہے اور اس نے اپنے کئی میزائل اور ڈرون کھو دیے یا استعمال کر لیے ہیں۔ نئی تیاری کے لیے اسے اپنی کمزور معیشت کا سامنا کرنا ہوگا جو مسلسل حملوں سے متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگ جوہری خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ اگرچہ ایرانی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لیکن افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے جو کئی جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی ترغیب بھی بڑھ سکتی ہے، جو خطے میں جوہری پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ امریکا میں بھی اسرائیل کے حوالے سے رائے منفی ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ جنگ ظاہر کرتی ہے کہ صرف طاقت ہی حق نہیں ہوتی۔ اگرچہ امریکا کی فوجی برتری واضح تھی، لیکن ایران نے محدود وسائل کے باوجود غیر متوازن جنگ لڑی، اور بغیر حکمت عملی کے طاقت کے استعمال نے امریکا کی پوزیشن کو کمزور کیا۔







