ایران کی حکمتِ عملی طویل جنگ کے ذریعے مخالفین کو تھکانا ہے، ولی نصر
شیعیت نیوز: ایرانی نژاد امریکی دانشور اور ماہرِ مشرقِ وسطیٰ ولی نصر نے کہا ہے کہ ایران کی موجودہ حکمتِ عملی وقت حاصل کرنا اور طویل جنگ کے ذریعے مخالفین کو تھکانا ہے۔
امریکی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں ولی نصر کا کہنا تھا کہ شدید بمباری اور فوجی دباؤ کے باوجود ایران کے ٹوٹنے یا فوری طور پر ہتھیار ڈالنے کے امکانات کم ہیں۔ ان کے مطابق تہران کی قیادت سمجھتی ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے اور طویل جنگ بالآخر امریکہ کی حکمتِ عملی کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اور حزب اللہ کا مشترکہ حملہ، اپر گلیلی میں صیہونی اہداف پر میزائلوں کی بارش
سابق مشیر امریکی محکمہ خارجہ ولی نصر کے مطابق ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ جنگ کو جلد ختم کرنے کے بجائے لمبا کھینچا جائے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر سیاسی، معاشی اور عسکری دباؤ بڑھتا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی دباؤ اور جنگ کی قیمت واشنگٹن کے لیے بڑھتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی حملوں کے باوجود ایران کے اندر قومی جذبات اور مزاحمت کا رجحان مضبوط ہو سکتا ہے، جس سے حکومت کو داخلی سطح پر مزید حمایت ملنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی قیادت فوری ہتھیار ڈالنے یا پسپائی اختیار کرنے کے بجائے استقامت کی حکمتِ عملی پر انحصار کر رہی ہے۔
پروفیسر ولی نصر کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی امید تھی کہ شدید فوجی دباؤ سے ایران کے اندر سیاسی انتشار یا عوامی بغاوت پیدا ہو سکتی ہے، مگر اب تک اس طرح کی کوئی واضح صورتحال سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کا ریاستی نظام مضبوط اداروں اور سکیورٹی ڈھانچے پر قائم ہے، جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر گرانا آسان نہیں۔
ان کے بقول اگر جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی کی منڈیوں اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔







