آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھارت کی دوغلی پالیسی بے نقاب

14 مارچ, 2026 12:05

شیعیت نیوز : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے معاملے پر بھارت کی سفارتی پالیسی کا متضاد پہلو سامنے آ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی صورتحال میں بھارت بیک وقت ایران اور امریکا دونوں سے رعایت لینے کی کوشش کرتا نظر آ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی موقف کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور درپیش خطرات کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا نمایاں کردار ہے۔ اسی رابطے کے دوران بھارتی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بھارت کو تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔

تاہم ایران کے ایک بیرونی ذریعے نے اس قسم کے کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں کی، جس کے باعث اس معاملے پر ابہام برقرار ہے۔ مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے بھارت کی سفارتی حکمت عملی کے ایک متضاد پہلو کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شہید رہبر کے مشن کو آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں جاری رکھا جائے گا، القسام بریگیڈ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب بھارت امریکا اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب اپنے معاشی مفادات کے لیے ایران کے امریکا مخالف بیانیے کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں امریکی دباؤ کے باعث بھارت نے چابہار منصوبے سے اپنی کمپنی واپس بلا لی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت درکار ہے تو اس سے اس کے خودمختار خارجہ پالیسی کے دعووں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں مسلسل بدلتے ہوئے مؤقف کے باعث خطے میں اس کے کردار اور ترجیحات پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

1:34 شام مارچ 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔