جیرالڈ فورڈ کے عملے نے 8 ماہ سے زائد تعیناتی پر ٹرمپ کو دھمکی دے دی، واپسی پر بحریہ چھوڑنے کا اعلان
شیعیت نیوز : عبرانی اخبار "معاریو” نے مغربی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ” کے عملے اور فوجی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکم پر مغربی ایشیا (خلیج فارس) میں طویل تعیناتی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
یہ اہلکار، جنہیں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی دباؤ کے لیے تعینات کیا گیا تھا، نے مشن کی مدت میں غیر معمولی توسیع پر غصہ ظاہر کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ واپسی کے بعد وہ امریکی بحریہ میں مزید خدمات انجام نہیں دیں گے۔
عام طور پر ایک طیارہ بردار جہاز کا مشن تقریباً 6 ماہ کا ہوتا ہے، لیکن جیرالڈ فورڈ کے عملے کو 8 ماہ سے زائد عرصے سے سمندر میں گزارنا پڑ رہا ہے اور وہ اپنے گھروں اور خاندانوں سے دور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : طیارہ بردار جہازوں کے باوجود ایران کی ثابت قدمی ناقابل شکست ہے، ایرانی جنرل
ملاحوں میں سے ایک نے میڈیا کو بتایا: "اہلکار انتہائی غصے میں ہیں؛ کچھ نے کھل کر کہا ہے کہ جیسے ہی وہ گھر واپس پہنچیں گے، وہ ملازمت چھوڑ دیں گے۔” ایک اور اہلکار نے زور دے کر کہا کہ بار بار مشن کی توسیع نے اس تعیناتی کو کئی گنا زیادہ مشکل اور ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔
یہ احتجاج ٹرمپ کی ایران مخالف جارحانہ پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے، جس نے امریکی فورسز پر غیر ضروری بوجھ ڈالا ہے جبکہ ایران کی مضبوط دفاعی تیاری نے کسی بھی جارحیت کو روکے رکھا ہے۔







