سانحہ ترلائی: شدید زخمی ساجد حسین شہید، شہداء کی تعداد میں اضافہ
شیعیت نیوز : سانحہ ترلائی کی المناک داستان ایک اور دلخراش موڑ اختیار کر گئی۔ مسجد خدیجۃ الکبریٰؑ میں ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہونے والے نوجوان ساجد حسین، جو گزشتہ دو ہفتوں سے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ یوں اس افسوسناک واقعے میں شہداء کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ساجد حسین حملے کے روز شدید زخمی ہوئے تھے اور انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ مسلسل زیر علاج رہے۔ ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی علاقے میں فضا سوگوار ہو گئی اور اہل خانہ پر کہرام مچ گیا۔
سماجی رہنما گل زہرا رضوی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ایک اور گھر کا چراغ بجھ گیا۔” انہوں نے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی بھرپور معاونت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی شہباز شریف کی تعریف: ایران کے خلاف صف بندی کی تمہید یا پاکستان کو استعمال کرنے کی کوشش؟
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سانحے کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کا غم کم نہیں ہوا۔ کئی گھرانوں نے اپنے جوان بیٹوں کو کھو دیا، جبکہ کچھ زخمی ایسے ہیں جو تاحال بستر علالت پر ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اگر ضرورت ہو تو بیرون ملک علاج کا انتظام بھی کیا جائے۔
یاد رہے کہ سانحہ ترلائی میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔







