ٹرمپ کی شہباز شریف کی تعریف: ایران کے خلاف صف بندی کی تمہید یا پاکستان کو استعمال کرنے کی کوشش؟

20 فروری, 2026 09:05

شیعیت نیوز : ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شہباز شریف کی بار بار تعریف کو بعض مبصرین ایران کے خلاف ممکنہ علاقائی صف بندی کی تمہید بھی قرار دے رہے ہیں، اور پاکستان کو استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی سیاست میں تعریفیں اکثر محض خوش اخلاقی نہیں ہوتیں بلکہ مستقبل کی حکمت عملی کا اشارہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ کسی غیر ملکی رہنما کی بار بار تعریف کریں تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔

حالیہ عرصے میں شہباز شریف کے بارے میں مثبت بیانات نے سیاسی و سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

خطے کی صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو ایران اور امریکا کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ پابندیاں، خطے میں اثر و رسوخ کی کشمکش اور مختلف تنازعات نے دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

ایسے میں پاکستان، جو ایران کا ہمسایہ ہے اور جس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور سرحدی روابط موجود ہیں، ایک نہایت اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی پہلو بعض مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا پاکستان کو کسی بڑے علاقائی کھیل میں استعمال کرنے کی کوشش تو نہیں ہو رہی؟

تنقیدی نقطہ نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے خطے کے ممالک کو مختلف انداز سے استعمال کرتی رہی ہیں۔ پہلے دوستانہ بیانات، پھر تعاون کی پیشکش اور اس کے بعد مخصوص معاملات پر توقعات—یہ ایک مانوس طریقہ کار سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : گلستان جوہر سے کالعدم سپاہ صحابہ کا مطلوب دہشت گرد گرفتار

اس تناظر میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں پاکستان کو ایران کے خلاف سفارتی دباؤ بڑھانے، سرحدی معاملات کو نمایاں کرنے یا کسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ بنانے کی راہ ہموار تو نہیں کی جا رہی۔

دوسری جانب یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ پاکستان کی اپنی قومی ترجیحات اور علاقائی مفادات ہیں۔ اسلام آباد ماضی میں یہ واضح کرتا رہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کا خواہاں ہے۔

ایران کے ساتھ سرحدی امن، تجارتی روابط اور مذہبی ہم آہنگی پاکستان کے لیے اہم عناصر ہیں جنہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔

ٹرمپ کے بیانات کو بعض ماہرین داخلی سیاست سے بھی جوڑتے ہیں، مگر جب معاملہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے کا ہو تو ہر لفظ کی گونج سرحدوں سے آگے تک سنائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار کی تعریف کو سادہ بیان کے بجائے ممکنہ سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حتمی طور پر کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا، لیکن خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔ اگر واقعی پاکستان کو ایران کے خلاف کسی دباؤ یا صف بندی میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ نہ صرف خطے کے امن بلکہ پاکستان کی خودمختار خارجہ پالیسی کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہوگا۔

ایسے میں دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفاد، علاقائی توازن اور ہمسایہ تعلقات کو ہر بیرونی تعریف یا دباؤ پر فوقیت دے۔

4:39 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top