مزاحمت کے ہتھیار چھیننا دشمن کے مقاصد پورے کرے گا، لبنان آزاد رہے گا، شیخ نعیم قاسم
شیعیت نیوز : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے شہداء قادہ (شیخ راغب حرب، سید عباس الموسوی اور حاج عماد مغنیہ) کی برسی پر خطاب کرتے ہوئے کہا:
جہاں بھی اشغالگری ہو، اسے ختم کرنے کے لیے مزاحمت ضروری ہے۔ لبنان میں مزاحمت کی تاریخ بہت پرانی ہے جو فلسطین کے اشغال سے جڑی ہوئی ہے۔
اسرائیل ایک توسیع پسند رژیم ہے جو پورا فلسطین اور پورا خطہ بغیر کسی استثناء کے ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ جب دشمن معاہدہ کرتا ہے تو صرف عارضی طور پر رکتا ہے کیونکہ وہ فی الحال مزید حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔
غزہ میں 60 فیصد سے زیادہ زمین پر براہ راست قبضہ ہے، باقی علاقہ روزانہ حملوں کی زد میں ہے۔ مغربی کنارے کا قانونی الحاق بھی جاری ہے۔ امریکہ اس سب کا مکمل ذمہ دار اور منتظم ہے۔
لبنان میں ہم ایک ایسے دشمن سے مقابلہ کر رہے ہیں جو لوگوں کو ختم کرنا اور زندگی تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کا ایران کے قونصل خانے میں ہجوم
27 نومبر کا معاہدہ لبنان نے پورا کیا مگر اسرائیل نے نہیں کیا۔ یہ معاہدہ ایک نئی مرحلہ ہے جو پچھلی صورتحال ختم کرتا ہے۔ حکومت کا مزاحمت کے ہتھیار چھیننے پر توجہ مرکوز کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ دشمن کے مقاصد پورے کر رہا ہے۔
یہ کیا مدد ہے جو ہمیں طعمهٔ آساں بنا دے اور غیر ملکی وصایت مسلط کر دے؟ ہم چاہتے ہیں کہ لبنان آزاد، خودمختار اور اپنے فیصلے خود کرنے والا ہو، ورنہ ملک تباہی کی طرف جائے گا۔
ہم جنگ نہیں چاہتے اور اس کی تلاش میں بھی نہیں، مگر تسلیم بھی نہیں ہوں گے۔ ہم دفاع کے لیے تیار ہیں۔ دفاع اور حملے میں بہت فرق ہے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ اس طریقے سے حملہ اس کے لیے فائدہ مند ہے، مگر ہمارے پاس دفاعی صلاحیتیں ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ جنگ کا نتیجہ ان کے حق میں یقینی نہیں۔
ہم اس وطن اور اس سرزمین کے شریک ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد یہاں رہے، ہمارے شہداء نے اسے خون سے سیراب کیا۔ ہمارے علاقے جنگ کے سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اگر تسلیم ہونا چاہتے ہو تو آئین بدلو، کیونکہ آئین کہتا ہے کہ اسرائیلی اشغالگری کے خلاف ہر ممکن اقدام کرو۔
شرم کی بات ہے کہ کچھ لوگ سیاسی فائدے کے لیے فتنہ اور لڑائی چاہتے ہیں۔ ہم وحدتِ ملی، مکمل حاکمیت اور آزادی کے حامی ہیں۔ فتنہ کے خلاف ہیں اور قومی سلامتی کی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں۔
ہم دو وجوہات سے صبر کر رہے ہیں: ایک یہ کہ ریاست ذمہ دار ہے اور اسے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ دوسرا یہ کہ ہم اپنے معاشرے اور وطن کی فکر میں ہیں۔ مگر یہ حالات مزید نہیں چل سکتے۔
جو ہونے والا ہے، وہ واقعات خود بتائیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مزید تنازلات نہ دے۔







