لکھنؤ: سانحہ ترلائی اسلام آباد میں شیعہ نسل کشی کے خلاف شدید احتجاج، دہشت گردی کی مذمت

13 فروری, 2026 18:25

شیعیت نیوز : آصفی مسجد لکھنؤ میں نماز جمعہ کے بعد ملت تشیع کی جانب سے اسلام آباد ترلائی کی جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے دہشت گردانہ خودکش حملے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کی رہنمائی مجلس علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا کلب جواد نقوی نے کی۔

مظاہرین نے دہشت گردی، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف "مردہ باد” کے نعرے لگائے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شیعوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ شیعوں کی مساجد اور امام بارگاہوں میں دھماکے ہوتے ہیں، ہزاروں شیعہ جوانوں کا اغوا کرکے انہیں غائب کر دیا جاتا ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے تکفیری گروہوں کا ہاتھ ہے۔ وہاں شیعوں کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ جب سے برطانیہ کی سرپرستی میں وہابیت اور تکفیریت کا سلسلہ شروع ہوا تب سے دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوا۔ شیعوں پر جتنے بھی ظلم ہوتے ہیں، کافر و مشرک کہہ کر ہوتے ہیں کیونکہ یہ وہابیت اور تکفیریت کا شیعوں کے خلاف فتویٰ ہے۔ اسی بنا پر تکفیری تنظیمیں شیعوں کے خلاف خودکش حملے کرتی ہیں اور ان کی نسل کشی کی جاتی ہے۔

مولانا نے وضاحت کی کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں چھوٹے چھوٹے بچوں کا برین واش کرکے دہشت گردانہ واقعات انجام دیتی ہیں۔ یہ منصوبہ بندی مدتوں پرانی ہے جس کے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں۔ یہ تنظیمیں چھوٹے بچوں کو دہشت گردی کی تربیت دیتی ہیں، جس کے لیے تکفیری مولویوں کو موٹی فنڈنگ ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ وہ کافروں اور مشرکوں کا قتل کرتے ہیں تو پھر ٹرمپ کا استقبال کیوں کیا جاتا ہے؟ امریکی صدر کے سامنے مسلم حکمران اپنی ناموس کیوں پیش کر رہے ہیں؟ کیا ٹرمپ مسلمان ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسلم حکمران امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو دہشت گرد نظریات کی پشت پناہی کرتے ہیں اور انہیں فروغ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ ترلائی کے خلاف ملت جعفریہ پاکستان کا عظیم احتجاجی اجتماع اور ریلی، فوری گرفتاریاں، فول پروف سیکیورٹی اور 15 دن میں مطالبات پورے کرنے کا الٹی میٹم

مولانا نے کہا کہ پوری دنیا میں امریکی اور اسرائیلی سازشوں کا مقابلہ صرف شیعہ کر رہے ہیں اس لیے ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا کے مسلم حکمران امریکہ و اسرائیل کے سامنے تسلیم ہو چکے ہیں، صرف شیعہ مزاحمت کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی بڑی بڑی مسلم تنظیمیں بھی شیعہ نسل کشی اور دہشت گردی پر خاموش رہتی ہیں اور ان کی طرف سے کوئی مذمتی بیان تک نہیں آتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تنظیمیں بھی عالمی طاقتوں کی آلہ کار ہیں اور ان کی ذہنیت بھی دہشت گرد تنظیموں سے مختلف نہیں۔

مولانا نے کہا کہ ظلم کسی بھی مذہب اور عقیدے کے لوگوں پر ہو رہا ہو ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، تاکہ ہمارا انسانی فریضہ ادا ہو سکے۔ ہم احتجاج کرکے پیغام دیتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے حامی نہیں بلکہ مظلوموں کے حامی ہیں۔ ہم اسلام آباد کی جامع مسجد میں شہید ہونے والے تمام شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ جب تک دہشت گردی پر دوہرا معیار ختم نہیں ہوگا دہشت گردی بھی ختم نہیں ہوگی۔

مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مولانا رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ دراصل امریکہ اور اسرائیل کے اشارے پر تھا۔ کیونکہ نماز جمعہ میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نمازی جمع ہو رہے تھے اور یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کی صورت میں تمام شیعہ ایران کی حمایت کریں گے، اس لیے امریکہ نے داعش کے دہشت گردوں کے ذریعے شیعوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے یہ خودکش دھماکہ کروایا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ داعش کو امریکی اور اسرائیلی سرپرستی حاصل ہے جیسا کہ کئی امریکی عہدیدار ماضی میں اس کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔

مولانا نے کہا کہ ہم پاکستان میں شیعوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شیعوں کو تحفظ فراہم کرایا جائے۔ پاکستان میں شیعہ محفوظ نہیں ہیں، ہمارے پاس الفاظ نہیں جن کے ذریعے اس نسل کشی کے واقعات کی مذمت کی جائے۔

احتجاج میں مولانا نقی عسکری، مولانا شباہت حسین، مولانا فیروز حسین، مولانا حسن جعفر، مولانا عادل فراز نقوی اور دیگر افراد نے شرکت کی۔

1:48 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top