ندوستان کے 58 ممتاز علمائے کرام کا مشترکہ بیان: رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای ہماری آن بان شان اور امید مستضعفین جہان ہیں
شیعیت نیوز : ہندوستان کے 58 ممتاز علمائے کرام کا مشترکہ بیان: رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای ہماری آن بان شان اور امید مستضعفین جہان ہیں – ٹرمپ کی دھمکیوں کی شدید مذمت
ہندوستان کے 58 جید اور معروف علمائے کرام نے رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای حفظہ اللہ کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نائب امام، ولی فقیہ، رہبر معظم، مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای ہماری آن بان شان اور امید مستضعفین جہان ہیں۔
بیان کا مکمل متن درج ذیل ہے:
ادھر کچھ عرصہ سے امریکہ کی دادا گیری عروج پر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بے لگام وحشی جانور کی طرح انسانی حقوق کی پرواہ کیے بغیر کسی نہ کسی ملک کو گیدڑ بھپکیاں دینے میں شرم محسوس نہیں کرتے، خصوصیت سے جمہوریہ اسلامی ایران ان کے نشانے پر ہے، انہیں اقتدار کا نشہ ہے۔ حالیہ بارہ روزہ جنگ کے بعد رہی سہی عزت کھونے والے امریکی صدر سے دنیا کے محبوب ترین قائد، ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای دام عزہ کی محبوبیت نہیں دیکھی جاتی یہاں تک کہ ایک ناعاقبت اندیش شکست خوردہ فرد کی طرح اس حکیم امت کو جان سے مارنے کی دھمکی دے ڈالی۔
قاتلھم اللہ ان یوفکون
جبکہ اس کے اتحادی بعض مغربی ممالک کے حکمراں اور اس جیسے فاشسٹ اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہم سب اس گھناؤنی سوچ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس بیانئے کے ذریعہ انتباہ دیتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے چٹے بٹے یاد رکھیں کہ یہ تنہا کسی سیاسی قیادت کو دھمکی نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی پیشوا کو دھمکی دی گئی ہے جس کے نتائج پوری عالمی برادری کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے۔
لہٰذا ہم سب متحدہ طور پر رہبر انقلاب اسلامی ایران، مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای حفظہ اللہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
امریکہ جنایت کار ہے، جو اسرائیل جیسے مجرم کی بلاقید و شرط حمایت کرکے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کا بڑا پاپی ہے اور اس کے اتحادی یہاں تک کہ بعض عرب ممالک بھی اپنی خفیہ حمایت کرکے شریک جرم ہیں۔ اور سب کے سب لائق مذمت ہیں۔ اگر آج امریکہ نے ایسی کسی غلطی کا ارتکاب کیا تو ایشیا آگ سے جھلس اٹھے گا اور پوری دنیا میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔
ایران انہیں جرائم پیشہ ممالک کی سازشوں کی وجہ سے اپنے استقلال و آزادی کی بہت زیادہ قیمت چکا چکا ہے جس کی حالیہ مثال ایران میں کھلم کھلا امریکہ اور اسرائیلی ایجنٹوں کے ذریعہ داخلی بدامنی تھی جس میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کی جان جانے کے علاوہ پبلک اثاثے تباہ و برباد ہو گئے اور پورے ملک کو سخت بحران سے دوچار ہونا پڑا۔ امریکہ پر نہ جانے کتنے جرائم کا بوجھ ہے، جس کا ایک نہ ایک دن حساب دینا ہی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :جامعۃ المصطفیٰ کراچی میں ہفتۂ تحقیق کا اختتامی دن، اندرونِ سندھ کے معزز علماء کی تجلیل، محققِ نمونہ اور مترجمِ نمونہ کا اعزاز
بفضل خدا سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ایران آج بھی سربلندی سے کھڑا ہوا دنیا سے خراج تحسین حاصل کر رہا اور اس کی حکیمانہ قیادت کو دنیا سلام کرتی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی ایران حضرت آیت اللہ خامنہای کی ہر دل عزیز و بے نظیر قیادت عالمی برادری خصوصاً خطہ کے لیے ایک عظیم نعمت ہے ہم سب آپ کی حمایت اور قدر دانی کرتے ہیں۔
آپ کروڑوں مسلمانوں اور حریت پسند انسانوں کے قائد ہیں یورپ اور امریکہ اب انسانی حقوق کے صرف نعرے بند کریں کیونکہ دنیا ان کے نفاق کو بارہا دیکھ چکی۔
اگر دنیا قائد انقلاب اسلامی ایران کی حکیمانہ باتوں کو سنے تو پتہ چلے گا وہ تنہا ایک ملک کے قائد نہیں بلکہ مظلوموں اور دبے کچلوں کی آواز ہیں وہ ایک روحانی پیشوا ہیں جن کی شجاعت، سیاسی بصیرت، روحانیت بارہا آزمائی جا چکی ہے اور ان سے سامراجی طاقتیں مکرر در مکرر منہ کی کھا چکی ہیں۔
امریکہ اور اس کے حامیوں کے لیے اب وقت آ پہنچا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کا محاسبہ کریں اور ایران اسلامی میں ناجائز طریقے سے حکومت کی تبدیلی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔
امریکہ کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ کسی ملک میں دادا گیری کرکے اس کی منتخبہ حکومت کو گرانے کی کوشش کرے۔
ہم اس تحریر کے ذریعہ قائد انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ خامنہای کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے سامراجی طاقتوں کی تمام سازشوں کی مذمت کرتے ہیں۔
بیشک خداوند ظالموں کی گھات میں ہے۔
والسّلام مع الاکرام
منجانب: مولانا سید تصدیق حسین رضوی (زیدپور، بارہ بنکی) مولانا صابر علی عمرانی (مظفرنگر) مولانا سید تنویر عباس رضوی (اکبرپور، امبیڈکر نگر) مولانا سید مشاہد عالم رضوی (ہلور، سدھارت نگر) مولانا سید نقی عسکری (لکھنؤ) مولانا کلب عابد خان (سلطانپور) مولانا سید سعید الحسن نقوی (رائے بریلی) مولانا سید اصطفیٰ رضا (لکھنؤ) مولانا سید ارشد حسین موسوی (لکھنؤ) مولانا اختر عباس جون (جونپور) مولانا مکاتب علی خان (سلطانپور) مولانا سید محمد حسنین باقری (جوراس، بارہ بنکی) مولانا سید گلزار حسین جعفری (تاراگڑھ، اجمیر) مولانا سید محمد حسن نقوی (لکھنؤ) مولانا سید افضال حسین (فیض آباد) مولانا سید حیدر عباس رضوی دانشؔ (اکبرپور، امبیڈکر نگر) مولانا سید محمد ثقلین باقری (جوراس بارہ بنکی) مولانا سید فیض عباس مشہدی (شاہ جہانپور) مولانا سید نجیب الحسن زیدی (ممبئی) مولانا سید صفدر حسین زیدی (جونپور) مولانا سید محمد کاظم موسوی صابری (کرگل) مولانا سید رضا امام رضوی ضرغام اترولوی مولانا محمد زہیر (عالم پور، بارہ بنکی) مولانا موسیٰ رضا یوسفی (زیدپور، بارہ بنکی) مولانا سید سیف مہدی رضوی (چرتھاول، مظفرنگر) مولانا ریاض محمد (کشمیر) مولانا میر شاعر علی (بنگلور) مولانا محبوب الحسن بٹ (کشمیر) مولانا انصار علی ہندی (کامٹی، ناگپور) مولانا سلمان حیدر (زینپور، اتراکھنڈ) مولانا سید شاہد حسین (قم، ایران) مولانا سید رضوان حیدر (حیدرآباد) مولانا سید محضر علی (سرسی، سنبھل) مولانا تنویر حیدر خان (جونپور) مولانا معراج حیدر خان اعظمی مولانا سید نامدار عباس مولانا ظفر عباس کلکتہ مولانا عادل منظور مولانا محمد حسن سرسوی مولانا محمد اطہر کاظمی میرٹھ مولانا سید سیف مہدی رضوی مظفر نگر مولانا میر شاعر علی امام جمعہ و جماعت دوڈ بالاپور بنگلور کرناٹک مولانا ریاض محمد کشمیر مولانا محبوب الحسن بٹ کشمیر مولانا انصار علی کامٹی ناگپور مولانا سلمان حیدر زین پور اتراکھنڈ مولانا سید شاہد حسین مولانا رضوان حیدر حیدر آباد مولانا سید محضر علی سرسوی مولانا مظفر حسین نجفی مولانا تنویر حیدر خان مولانا معراج حیدر خان مولانا کلب عباس اشہر مولانا جواد حیدر جوادی مولانا سید عارف عباس نقوی اعظمی مولانا کرار حسین جلالپور مولانا مظاہر حسین مظفر نگر مولانا غلام رسول پجو کشمیر







