ہم ڈرنے والے نہیں‘: امام خمینیؒ کے پوتے سید علی احمد خمینی کا المیادین کو سخت پیغام، ظالم اور مظلوم کے درمیان مفاہمت کبھی نہیں ہوگی
شیعیت نیوز : ’ہم ڈرنے والے نہیں‘: امام خمینیؒ کے پوتے سید علی احمد خمینی کا المیادین کو دوٹوک پیغام – ظالم اور مظلوم کے درمیان مفاہمت نہ کبھی ہوئی، نہ ہوگی
امام روح اللہ خمینیؒ کے پوتے سید علی احمد خمینی نے المیادین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں واشنگٹن اور تل ابیب کو سخت اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران خوفزدہ نہیں، بلکہ پوری طرح ثابت قدم ہے۔ امریکی اور اسرائیلی تمام کوششیں اسلامی جمہوریہ ایران کو گرانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔
سید علی احمد خمینی نے بڑھتے ہوئے امریکی دھمکی آمیز بیانات اور عسکری دباؤ کے پس منظر میں کہا: "امریکی مر جائیں گے مگر نہ ہماری تذلیل دیکھ سکیں گے، نہ ہماری قوم کی، نہ ہمارے ملک کی — جیسے ان کے پیشرو مر گئے۔”
انہوں نے رہبر انقلاب سید علی خامنہای کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "جس طرح فرعون اپنی طاقت کے عروج پر مر گیا، اسی طرح اگر امریکہ ایران کی تذلیل چاہتا ہے تو یہ کبھی نہیں ہوگا۔”
12 روزہ جنگ جس نے معادلہ بدل دیا سید علی احمد خمینی نے ایران پر مسلط کی گئی 12 روزہ امریکی-اسرائیلی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب سمجھتے تھے کہ یہ جنگ اسلامی جمہوریہ کے خاتمے اور نظام کے سقوط کا باعث بنے گی، مگر "معادلہ الٹ گیا”۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے اب بھی ایران پر فیصلہ کن حملے کو ناگزیر سمجھتے ہیں، لیکن ان کے مطابق جنگ کا امکان بہت دور ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا: "اگر جنگ ہوئی تو ایرانی قوم اس سرزمین میں جڑیں رکھتی ہے۔ ہم اسی زمین کے ہیں۔ جانے والے وہ ہوں گے۔”
یہ بھی پڑھیں : خبیث شیخ محمد بن زاید بھی ایپسٹین فائلز میں پکڑا گیا، ابوظہبی کے امیر نے نجی جزیرے پر ایپسٹین سے ملاقات کی تصویر لیک
انہوں نے اسلامی انقلاب کے مستقبل کو خوف کی بات قرار دینے کے بجائے کہا کہ اس کا راستہ "ایثار سے شروع ہوتا ہے اور شہادت پر ختم” — اور اس میں واپسی نہیں۔
استکبار صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے سید خمینی نے عالمی استکبار کے ساتھ تصادم کی نوعیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل میں فرق کرنا بامعنی نہیں کیونکہ امریکہ اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا فوجی اڈہ بنائے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا: "یہ ایک ایسا اڈہ ہے جہاں شادی اور بچوں کی اجازت ہے، مگر پھر بھی وہ مکمل طور پر فوجی اڈہ ہی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی مفادات کا ٹکراؤ ہو، امریکہ ہمیشہ اسرائیل کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے زور دیا: "استکبار صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ اس لیے مزاحمت، مقابلہ اور حتیٰ کہ مذاکرات بھی طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ طاقت کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔”
انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو "سفارتی محاذ کے مجاہد” قرار دیتے ہوئے کہا: "ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ مفاہمت کی تلاش میں گئے ہیں۔ ظالم اور مظلوم کے درمیان مفاہمت نہ کبھی ہوئی ہے، نہ ہوگی۔”
جنگ ہوئی تو ہم ڈریں گے نہیں خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے سوال پر سید خمینی نے کہا: "میرے اندازے میں وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سب سے دور امکان ہے۔ لیکن اگر جنگ ہوئی تو ہم ڈرنے والے نہیں۔ ہم مزاحمت کریں گے اور اپنی صلاحیتیں ثابت کر چکے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "جب استکبار کے سامنے خوف غالب آ جائے تو انسان مر جاتا ہے۔ ہمارے لیے کوئی اور راستہ نہیں۔”
’اسرائیل‘ دنیا کو جنگل بنانا چاہتا ہے سید خمینی نے امریکی-اسرائیلی پالیسی کو خطے کو کمزور کرنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اسلامی ممالک کو معاشی ترقی کا موقع نہیں دینا چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ خطہ وجودی جنگ سے گزر رہا ہے اور اسرائیل ایران کو تقسیم کرنا چاہتا ہے کیونکہ چھوٹے ممالک کو پھر کسی اتحادی کی ضرورت پڑتی ہے اور یہی جگہ اسرائیل کے لیے فائدہ بن جاتی ہے۔
غزہ کی صورتحال پر انہوں نے کہا: "60 ہزار بے گناہ لوگ غزہ میں شہید کر دیے گئے۔ دنیا کہاں تھی؟ طاقتور ریاستیں کہاں تھیں؟”
سید حسن نصراللہ کو خراجِ عقیدت انٹرویو کے جذباتی حصے میں سید خمینی نے شہید حزب اللہ رہنما سید حسن نصراللہ کی امام خمینیؒ کے گھر جماران آمد کا ذکر کیا جہاں ان کے ساتھ شہید قاسم سلیمانی اور عماد مغنیہ بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ خاندان اس بات پر غور کر رہا تھا کہ 2006 کی جنگ میں کامیابی کے بعد سید حسن نصراللہ کو کیا تحفہ دیا جائے۔ بالآخر امام خمینیؒ کے استعمال کی ایک کپڑے کی پٹی انہیں پیش کی گئی۔
یہ منظر انتہائی جذباتی تھا: "وہ رو پڑے، عماد مغنیہ روئے، حاج قاسم سلیمانی بھی رو پڑے۔”
سید نصراللہ نے بتایا کہ جنگ میں ان کا گھر تباہ ہوا لیکن سب سے بڑا دکھ امام خمینیؒ کی طرف سے ملنے والی ایک پگڑی کے ضائع ہونے کا تھا۔
سید حسن نصراللہ: نسلوں کے لیے علامت سید خمینی نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ سید حسن نصراللہ کی تقاریر دوبارہ سنیں کیونکہ ان کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔
انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ زندہ ہیں۔”
رہبر انقلاب سید علی خامنہای کی خصوصیات ایران کے رہبر سید علی خامنہای کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سید خمینی نے چار نمایاں خصوصیات بیان کیں:
- تقویٰ اور دینداری
- وسیع علم اور بصیرت
- بے مثال تجربہ
- غیر معمولی شجاعت
انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے بھی سید خامنہای میں یہ جرات دیکھی تھی اور ان کے والد نے وصیت میں ان کی اطاعت پر زور دیا تھا۔
استقامت کا پیغام آخر میں سید خمینی نے کہا کہ ایران کو مسائل کا سامنا ضرور ہے مگر حقیقت پسندانہ انداز میں ان سے نمٹا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا: "پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایران کھڑا ہے اور روز بروز ترقی کر رہا ہے۔”
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا: "ہم بالکل نہیں ڈرتے۔ ہم ثابت قدم ہیں۔ ہم ایک حق پر مبنی مقصد اور اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔”







