امریکہ کی اصلیت و حقیقت؛ امام خمینی کی نگاہ میں
شیعیت نیوز: تحریر: ظہور مہدی مولائی
بلاشبہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ الموسوی الخمینی علیہ الرحمہ امت مسلمہ کے ایک باعمل دینی عالم، نہایت بصیر و دور اندیش مفکر، عظیم ولی و قائد اور بڑے دلسوز و ہمدرد رہبر و راہنما تھے۔ وہ درحقیقت دین اسلام اور سیرت اہل بیت و ائمہ طاہرین علیہم السلام کے سچے پیرو اور مطیع و فرمانبردار سالک تھے۔
حق یہ ہے کہ انہوں نے اسلام و قرآن اور اہل بیت و ائمہ طاہرین علیہم السلام کے وقیع و گرانقدر اصول و تعلیمات کی بنیاد پر شاہی استبدادی نظام کو نیست و نابود کر کے ایران میں جو اسلامی انقلاب برپا کیا اور دینی حکومت قائم کی، وہ اس دنیا میں بے نظیر نہیں تو کم نظیر ضرور ہے۔
یہ ایک زمینی اور مشاہداتی حقیقت ہے کہ ان کے لائے ہوئے اسلامی انقلاب اور ان کی تاسیس کی ہوئی دینی حکومت کے سائے تلے ملک ایران نے ہر میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔
عالمی منظر نامہ پر سرسری نظر رکھنے والا بھی اس حقیقت کو جانتا ہے کہ جب سے یہ اسلامی انقلاب اور دینی نظام حکومت وجود میں آیا ہے، ایران اس وقت سے تعمیر و ترقی کی طرف مسلسل رواں دواں ہے، جبکہ ٹھیک اسی وقت سے بلاوقفہ اس مبارک انقلاب و نظام کو کچلنے اور اس کی اس مترقی رفتار کو روکنے کے لیے جملہ ظالمانہ و مستکبرانہ طاقتیں اپنی تمام تر طاقت و قدرت کو سمیٹ کر جو بھی کر سکتی تھیں وہ پوری قوت و شدت کے ساتھ کرتی چلی آ رہی ہیں۔
یوں تو پوری دنیا کی شیطانی و ابلیسی، ظالمانہ و سفاکانہ طاقتیں اس مبارک انقلاب و نظام سے کھلی عداوت و دشمنی پر کمر بستہ ہیں لیکن ان میں پیش پیش "شیطان بزرگ امریکہ” ہے، اور اسے "شیطان بزرگ” کا یہ پلید و منحوس نام حکیم و دور اندیش مرجع و فقیہ اہل بیت سرکار آیت اللہ امام خمینی علیہ الرحمہ ہی کا دیا ہوا ہے۔
امریکہ واقعی شیطان بزرگ ہے اور اس وسیع و عریض کائنات میں جہاں بھی کسی ملک و ملت کے خلاف کوئی فساد و ہنگامہ ہوتا ہے تو اس کی پشت پر خود امریکہ یا اس کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔
بلاشبہ شیطان تو بہت ہیں لیکن اس کرہ ارض پر سب سے بڑا شیطان، مفسد، شر انگیز اور فتنہ پرور یہی ظالم و ستمگر ہے۔
اس لیے اس سفاک و خوں ریز کی ماہیت و اصلیت کو گہرائی کے ساتھ پہچاننا بلا استثناء تمام اقوام عالم کے لیے اشد ضروری ہے اور اس کا آسان راستہ حضرت آیت اللہ خمینی علیہ الرحمہ کے ان بیانات کا بغور مطالعہ کرنا ہے جو ان کی پاک اور سچی زبان سے اس کے بارے میں صادر ہوئے ہیں اور آج عالمی سطح پر ان کی سچائی ثابت و آشکار ہو چکی ہے۔
ہم ان میں سے کچھ مگر نہایت اہم بیانات اپنے محترم قارئین کے لیے یہاں ذکر کر رہے ہیں:
1۔ آپ نے بڑے صاف و شفاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ: امریکہ، ہمارا اور بشریت و انسانیت کا نمبر ون دشمن ہے۔ (1)
اس کا مطلب یہ ہے کہ بشریت و انسانیت کے دشمن تو اور بھی ہیں مگر ان میں سب سے پہلا اور بڑا دشمن امریکہ ہے۔
سوال: آخر کیوں؟ اس کی علت و وجہ کیا ہے؟
جواب: ہم اس کا اصلی سبب امام خمینی کے نیچے آنے والے بیانات سے حاصل کر سکتے ہیں:
2۔ امریکہ دنیا کے محروم و مستضعف لوگوں کا اول نمبر کا دشمن ہے، امریکہ دنیا پر اپنا سیاسی، مالی و اقتصادی، اجتماعی و سماجی اور فوجی و لشکری قبضہ جمانے یا اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی ظلم و ستم اور جرم و خطا سے گریز نہیں کرتا۔ (2)
یعنی امریکہ وہ خبیث ملک ہے جو اپنے نفع اور فائدہ کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے اور کسی بھی حد سے گزر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دشمن کو صرف سامنے نہیں بلکہ اس کے تھنک ٹینک اور اصل منصوبہ ساز مرکز میں دیکھیں، حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر انسانیت اور شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی، کیونکہ وہ فقط شیطان نہیں بلکہ شیطان بزرگ ہے اور اس کا ایک منہ بولتا ثبوت حالیہ دنوں میں وینزویلا کی مسلم و قانونی حاکمیت و حیثیت پر اس کا کھلی ڈکیتی ڈالنا ہے۔
3۔ امریکہ تمام دینوں کا دشمن ہے یہاں تک کہ عیسائیت کا بھی، امریکہ ادیان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا وہ تو فقط اپنا نفع چاہتا ہے۔ (3)
بلاشبہ یہ ایک ایسی منہ بولتی سچائی ہے، جس کا مشاہدہ ساری کائنات آج خود اپنی آنکھوں سے کر رہی ہے، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ ادیان میں سب سے زیادہ دین اسلام اور اقوام میں سب سے زیادہ مسلمانوں سے عداوت و دشمنی برتتا ہے۔
آخر کیوں؟
اس سوال کے واضح جواب تک ہم آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی علیہ الرحمہ کے اس بیان سے بآسانی پہنچ سکتے ہیں:
4۔ امام خمینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: محمدی اسلام ناب کی دشمنی و عداوت امریکہ کی ذات و طبیعت میں موجیں مارتی ہے۔ (4)
امریکہ و اسرائیل اسلام کی اساس و بنیاد سے دشمنی رکھتے ہیں، کیونکہ وہ اسلام، کتاب (قرآن) اور سنت کو اپنے راستے کا کانٹا اور ان سب کو اپنی غارت گری اور غنڈہ گردی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ایران نے انہیں (اسلام، قرآن اور سنت) کی پیروی کرتے ہوئے ان (امریکہ و اسرائیل) کے مقابلے میں کھڑے ہو کر انقلاب برپا کیا اور کامیابی حاصل کی ہے۔ (5)
اسی لیے وہ دونوں اسلام کے ساتھ ساتھ مسلمان ملک ایران سے بھی شدید عداوت و دشمنی رکھتے ہیں اور ہمیشہ اسے تباہ و برباد کرنے کی نہایت گھناونی منصوبہ بندی اور گھٹیا کوششیں کرتے رہتے ہیں جو آئے دن مختلف رنگ و روپ اور غیر معقول اور بے جا بہانوں کی صورت میں دنیا کے سامنے آتی رہتی ہیں، جس کا ایک نمونہ ابھی پیش والا ایرانی تاجروں کا وہ جائز احتجاج ہے جو انہوں نے مہنگائی اور ایرانی کرنسی کی غیر معمولی گراوٹ نیز ڈالر کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمت سے متعلق کیا تھا، لیکن مکار و عیار امریکہ نے اس سے سوء استفادہ کرتے ہوئے انہیں مظاہرین کے مابین اپنے زر خرید انسان نما بھیڑیوں کو چھوڑ دیا، جنہوں نے ایران کے مختلف شہروں میں خوب فساد مچایا اور بہت تباہی و بربادی اور ناامنی پھیلائی اور جب ایرانی پولیس نے انہیں پہچان کر ان پر سختی کی تو امریکی صدر ٹرمپ کے پیٹ میں ایرانی قوم کی ہمدردی کا اچانک ایسا درد اٹھا کہ اسے خون کی الٹیاں ہونے لگیں اور وہ یوں بڑبڑانے لگا:
اگر تہران حکومت نے مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ کیا تو امریکہ ایران کے ساتھ سختی سے پیش آئے گا۔
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ایک طرف یہ سازش و فریب سے لبریز منحوس بیان تھا اور دوسری طرف تقریباً ساری دنیا کا ظالم و ستمگر، بکا ہوا اندھا، جھوٹا اور بے غیرت میڈیا تھا جو ایران کے خلاف اس طرح چلا رہا تھا کہ ایسے تو مرگی اور پاگل پن کے مریض بھی نہیں چلاتے۔
ہر طرف یہی شور تھا کہ ایران کا تختہ پلٹ گیا اور خامنہ ای فرار کر گئے۔
یہ اسی ظالم و سنگدل میڈیا کا نہایت جھوٹا مگر کان پھاڑ دینے والا شور و غل تھا، جو فلسطینیوں پر اسرائیلی بموں اور میزائلوں کی لگاتار برستی ہوئی موسلا دھار بارش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور اس کی مہیب آواز کو اپنے کانوں سے سن کر بھی مہر بلب رہتا ہے اور مغربی ملکوں میں حکومتوں کے خلاف آئے دن ہونے والے بکثرت احتجاجات کو یکسر جان بوجھ کر نظر انداز کرتا رہتا ہے اور اس طرح ان کا حق نمک ادا کرنا اپنی ڈیوٹی سمجھتا ہے۔
خیر الحمدللہ اب ایران میں حالات اپنے معمول پر آ چکے ہیں کیونکہ وہاں کے سمجھدار اور جائز مطالبہ کرنے والے تاجروں اور دیگر لوگوں نے فسادی اور فتن ٹولے سے اپنی علیحدگی اور بیزاری کا ببانگ دہل اعلان کر دیا ہے اور انہوں نے امریکی صدر کی ایران کے داخلی معاملات میں بے جا اور غیر قانونی مداخلت پر کھل کر اپنے قہر و غضب کا اظہار بھی "مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل” کے فلک شگاف نعروں سے کر کے امریکہ و اسرائیل کو پھر ان کی اوقات یاد دلا دی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ایران کی فہیم و غیور قوم نے "انقلاب زندہ باد” اور "ہم اپنے خون کے آخری قطرہ تک ولایت فقیہ کی نصرت و حمایت کرتے رہیں گے” جیسے پرجوش اور استکبار شکن نعرے لگا کر اسلامی انقلاب اور اپنے عزیز و محبوب رہبر سے ہمیشہ کی طرح پھر اپنی وفاداری کا کھلا ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے۔
پس حق تو یہ ہے کہ اب ان جھوٹے مبصرین اور زر خرید و مفلوج تجزیہ کاروں اور خبرنگاران کو چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جانا چاہیے کہ جو ایران میں حکومت کا تختہ پلٹنے اور اسلامی ایران و انقلاب کے حکیم، دانشمند، بصیر اور شجاع و بہادر رہبر حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ الشریف پر فرار کا ناروا الزام لگا رہے تھے اور دن رات اس طرح کی بے بنیاد خبریں دیتے ہوئے نہیں تھک رہے تھے۔
حوالہ جات: 1۔ صحیفہ امام، ج 10، ص 373۔ 2۔ صحیفہ امام، ج 13، ص 212۔ 3۔ صحیفہ امام، ج 17، ص 312۔ 4۔ صحیفہ امام، ج 21، ص 52۔ 5۔ صحیفہ امام، ج 19، ص 28۔







