ایران میں فسادات: خاتون سرغنہ کا نیتن یاہو سے براہِ راست رابطے کا اعتراف

16 جنوری, 2026 19:47

شیعیت نیوز : ایران میں حالیہ امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی سے ہونے والے فسادات میں ملوث ایک خاتون سرغنہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ذاتی طور پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور تل ابیب حکومت سے ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کی حمایت طلب کی۔

پریس ٹی وی** کی رپورٹ کے مطابق خاتون ملزمہ، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، سات زبانوں پر عبور رکھتی ہے۔ اس نے یہ اعتراف بدھ کے روز ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی کے تہران میں واقع ایک حراستی مرکز کے دورے کے دوران کیا، جہاں فسادات اور تخریب کاری میں ملوث افراد کو رکھا گیا ہے۔

حکام کے مطابق خاتون نے اعتراف کیا کہ اس نے حالیہ ہنگاموں کے دوران پرو پہلوی سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے منتظمین کے ساتھ رابطہ کیا اور 7 اکتوبر 2023ء کو غزہ پر اسرائیل کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل نواز حلقوں سے براہِ راست روابط قائم کیے۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے خود بنیامین نیتن یاہو کو براہِ راست پیغام بھیجا۔

یہ بھی پڑھیں : یومِ شہادت امام موسیٰ کاظمؑ، 15 ملین زائرین کی روضہ کاظمین میں حاضری

رپورٹ کے مطابق دو دیگر فسادیوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنا اور ملک میں افراتفری پیدا کرنا تھا۔ حراست میں لیے گئے ایک شخص نے اعتراف کیا کہ اس نے جنوبی تہران میں اپنے اپارٹمنٹ سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں پر سنگل بیرل شارٹ گن سے فائرنگ کی۔ ایک اور شخص نے تسلیم کیا کہ اس نے چار پولیس اہلکاروں کو جان بوجھ کر اپنی گاڑی سے ٹکر مار دی۔

تین دیگر تخریب کاروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں کے سروں پر سیمنٹ کے بڑے بلاکس گرا کر حملے کیے۔ خاتون سرغنہ نے کھلے عام کہا کہ انہیں دشمنوں کے ایران مخالف ایجنڈے کی مکمل آگاہی تھی اور ان کا مقصد قوم کو تقسیم کرنا تھا۔

ان اعترافات کے جواب میں غلام حسین محسنی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ تمام افراد جو براہِ راست یا بالواسطہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے جڑے ہیں اور جنہوں نے حالیہ ہنگاموں میں فسادیوں اور تخریب کاروں کو اکسایا، قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ ہنگامے ابتدا میں تہران کے بڑے بازار میں کچھ تاجروں کے پرامن احتجاج سے شروع ہوئے تھے، جو قومی کرنسی میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف تھے۔ یہ معاشی حالات امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔

احتجاج ایک ہفتے تک پُرامن رہے، اس دوران صدر مسعود پزشکیان اور ان کی انتظامیہ نے مظاہرین کے نمائندوں سے مذاکرات کیے اور ان کے مطالبات سنے۔ تاہم 8 جنوری سے صورتحال اس وقت بدل گئی جب منظم اور دانستہ طور پر پُرتشدد کارروائیاں شروع ہوئیں، جن میں غیر ملکی پشت پناہی سے لیس فسادیوں اور تخریب کاروں نے معاشی شکایات پر مبنی احتجاج کو ہائی جیک کر لیا۔

مسلح فسادیوں نے دکانوں، بینکوں، بس اسٹیشنوں اور مساجد سمیت عوامی املاک کو نشانہ بنایا اور متعدد سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا۔ رپورٹ کے مطابق حکام کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر ملکی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں نے ہتھیار استعمال کیے، تقسیم کیے اور جان بوجھ کر شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔

ایران کی حکومت نے ان دہشت گرد اور تخریبی کارروائیوں کا براہِ راست ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ کو قرار دیا ہے، جن میں درجنوں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادتیں ہوئیں۔

1:59 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top