ظالم کی بیعت نہیں ہوگی: کربلا سے ایران تک ایک زندہ فکر
تحریر: میثم عابدی
شیعیت نیوز: تاریخِ انسانیت میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی حدوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وہ کسی ایک صدی، کسی ایک خطے یا کسی ایک قوم تک محدود نہیں رہتے بلکہ صدیوں بعد بھی انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔ کربلا ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ یہ محض 61 ہجری کا ایک سانحہ نہیں بلکہ ظلم اور جبر کے مقابل حق، عدل اور آزادی کا وہ دائمی اعلان ہے جس کی بازگشت آج بھی دنیا کے ہر مظلوم خطے میں سنائی دیتی ہے۔
کربلا میں امام حسینؑ کا یزید کے سامنے بیعت سے انکار دراصل ایک فرد کا انکار نہیں تھا بلکہ ایک پورے نظامِ ظلم کے خلاف کھلا اعلانِ مزاحمت تھا۔ امامؑ بخوبی جانتے تھے کہ یزید کی بیعت کا مطلب صرف ایک سیاسی وفاداری نہیں بلکہ ظلم، ناانصافی، جبر اور دین کی تحریف کو جائز قرار دینا ہے۔ اسی لیے امام حسینؑ نے تعداد، طاقت اور ظاہری نتائج کو نظرانداز کرتے ہوئے حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہی فیصلہ کربلا کو تاریخ کا مرکز بنا گیا۔
امام حسینؑ نے اپنی شہادت کے ذریعے یہ بتایا کہ حق کی راہ میں کامیابی کا معیار ظاہری فتح نہیں بلکہ اصولوں پر ثابت قدمی ہے۔ کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خاموشی اختیار کرنا بسا اوقات ظلم کو دوام بخش دیتا ہے، جبکہ مزاحمت اگرچہ قربانی مانگتی ہے مگر تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔ اسی لیے کربلا صرف ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور عملی تحریک ہے جو ہر دور میں نئے مظاہر کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو دیکھتے ہیں کہ یہی حسینی فکر صدیوں بعد ایران میں ایک نئی شکل میں جلوہ گر ہوئی۔ امام خمینیؒ نے شاہی آمریت، سامراجی تسلط اور مغربی بالادستی کے خلاف قیام کرتے ہوئے کربلا کے پیغام کو محض نعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عملی سیاست اور اجتماعی جدوجہد میں ڈھال دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف قیام کا نام ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جماعت اسلامی کراچی کا ایرانی قونصل خانے کا دورہ، امریکی مداخلت کی مذمت
ایران کا اسلامی انقلاب اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے نظریے سے جڑ جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے۔ شاہی نظام، جسے عالمی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی، عوامی مزاحمت کے سامنے ٹک نہ سکا۔ یہ انقلاب دراصل “ظالم کی بیعت نہیں ہوگی” کے اصول کی عملی تفسیر تھا۔ یہاں بھی قربانیاں دی گئیں، شہادتیں ہوئیں، مگر قوم نے اپنے اصولوں کا سودا نہیں کیا۔
آج رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہای اسی حسینی تسلسل کے امین نظر آتے ہیں۔ عالمی استکبار، بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دباؤ کے باوجود ایران کا دوٹوک مؤقف یہی ہے کہ ظلم، جارحیت اور سامراجی بالادستی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ مؤقف محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک فکری وابستگی کا نتیجہ ہے جو کربلا سے جڑی ہوئی ہے۔
اگر آج کے عالمی منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ کربلا زندہ ہے۔ فلسطین میں نہتے عوام کا ظلم کے سامنے ڈٹ جانا، لبنان میں مزاحمتی قوتوں کا سامراجی جارحیت کے خلاف کھڑا ہونا، یمن میں عوام کا بدترین حالات کے باوجود ہمت نہ ہارنا—یہ سب اسی حسینی فکر کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہ مظلوم اقوام ہمیں بتاتی ہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ یا دولت نہیں بلکہ نظریہ، ایمان اور قربانی کا جذبہ ہے۔
“ظالم کی بیعت نہیں ہوگی” آج کے دور میں محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی اصول بن چکا ہے۔ یہ اصول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو—سیاسی، معاشی یا فکری—اس کے سامنے سر جھکانا دراصل اپنی انسانیت سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یزید کا نام نفرت کی علامت بن گیا جبکہ حسینؑ حق و صداقت کا استعارہ ہیں۔ آج ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم کربلا کے پیغام کو محض جذباتی تقاریر تک محدود نہ کریں بلکہ اسے اپنی سماجی اور سیاسی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر ہم ظلم کو دیکھ کر خاموش رہیں، ناانصافی کو قبول کر لیں اور مفاد کی خاطر اصولوں سے دستبردار ہو جائیں تو ہم عملاً یزیدی طرزِ فکر کا حصہ بن جاتے ہیں۔
کربلا سے ایران تک کا یہ فکری سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی راہ کبھی آسان نہیں ہوتی، مگر یہی راہ انسان کو تاریخ میں زندہ رکھتی ہے۔ جب تک دنیا میں ظلم موجود ہے، اس وقت تک حسینؑ کا پیغام زندہ رہے گا، اور ہر دور کے باشعور انسان یہی اعلان کرتے رہیں گے:
“ظالم کی بیعت نہیں ہوگی”۔







