رضا پہلوی کی واپسی کے دعوے اور ایران کے زمینی حقائق
تحریر: تصور حسین شہزاد
ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے وقت رضا پہلوی کی عمر محض 16 برس تھی، جب ان کے والد کی 40 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور ہزار سالہ بادشاہت کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اب 65 برس کی عمر میں، تقریباً نصف صدی بعد، وہ خود کو ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف تحریک میں ایک نمایاں کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا ادارے CNN نے زمینی حقائق کے برعکس یہ دعویٰ کیا کہ ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران “یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئے گا” جیسے نعرے سنائی دیے، جبکہ بعض مظاہرین نے “بادشاہ زندہ باد” جیسے الفاظ بھی دہرائے۔ تاہم یہ حقیقت نظر انداز کر دی گئی کہ ایران کے اندر ایسے نعرے سماجی طور پر انتہائی ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں اور عوام کی ایک بڑی اکثریت شاہی نظام سے شدید نفرت رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نعرے لگے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایرانی عوام واقعی بادشاہت کی بحالی چاہتے ہیں؟ اس کا واضح جواب نہیں ہے۔ اگر موجودہ نظام کے خلاف کسی مظاہرے میں 50 افراد شریک ہوتے ہیں تو اسی کے مقابل نظام کے حق میں ہونے والی ریلیوں میں 50 ہزار سے زائد افراد شریک ہو کر رہبرِ اعلیٰ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ رضا پہلوی نے حالیہ برسوں میں امریکی تعاون سے ایران میں واپسی کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، مگر وہ کسی طور ایرانی عوام کو متحد کرنے والی شخصیت نہیں بن سکے۔ ایران میں کچھ لوگ ان کے حامی ہیں، مگر اس سے کہیں زیادہ وہ لوگ ہیں جو انہیں ماضی کی آمریت کی علامت سمجھتے ہوئے سخت ناپسند کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاراچنار میں 50 جوڑوں کی اجتماعی شادی، جہیز کا سامان بھی فراہم
رضا پہلوی یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو وہ عبوری دور میں قیادت کے لیے تیار ہیں، مگر ان کے پاس مستقبل کے سیاسی نظام، آئین یا اقتدار کی نوعیت سے متعلق کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔ یہی ابہام اور عملی سیاسی تجربے کی کمی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام ان کی حمایت کے لیے تیار نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ ایران میں احتجاج کی پانچویں لہر ہے، جو مسلسل ناکامی سے دوچار رہی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ رضا پہلوی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، مگر زمینی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ ایران ایک بار پھر تاج و تخت کی طرف لوٹنے کے لیے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ اگر مغربی پروپیگنڈے کو درست مان بھی لیا جائے کہ عوام انقلاب سے بیزار ہو چکے ہیں، تب بھی ان کا ہدف بادشاہت نہیں—جس سے ایرانی عوام نے بھاری قربانیوں کے بعد نجات حاصل کی۔ شاہ کے دور میں ایران مغرب کی عیاشی کا اڈا بن چکا تھا، اور غیرت مند ایرانی قوم اس اندھیرے میں دوبارہ جانے کے لیے آمادہ نہیں۔
ایران میں جاری احتجاج کے تناظر میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا یہ مظاہرے اسلامی جمہوریہ کے خاتمے پر منتج ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ راقم کے نزدیک اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا اقتدار ختم بھی ہو جائے—جو فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا—تب بھی منظرنامہ 1979ء جیسا نہیں ہوگا۔ استعماری قوتیں ایک بنیادی غلطی کر رہی ہیں: وہ آج کے ایران کو 1979ء کے ایران کے سانچے میں دیکھ رہی ہیں، حالانکہ دونوں بالکل مختلف ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایک فردِ واحد کی حکومت نہیں، جیسا کہ شاہی نظام تھا۔ اگرچہ آیت اللہ خامنہ ای حتمی اختیار رکھتے ہیں، مگر نظام کے اندر طاقت کے متعدد مراکز، سیاسی دھڑے، ادارے اور مفادات موجود ہیں، اور قیادت ان کے درمیان توازن اور اتفاقِ رائے سے چلتی ہے۔
1977ء سے 1979ء تک تقریباً دو سال مسلسل احتجاج کے بعد شاہی نظام مفلوج ہوا تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ نظام نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ دفاع سے پیچھے ہٹ رہا ہو۔ بلکہ ریاستی مشینری متحرک اور مؤثر دکھائی دیتی ہے۔ ایک اور بنیادی فرق اپوزیشن کی نوعیت ہے: 1979ء میں شاہ مخالف تحریک منظم اور نظم و ضبط کی پابند تھی، جبکہ آج ایسی متحد اور منظم اپوزیشن موجود نہیں جو کسی بڑے انقلابی نتیجے کی ضمانت دے سکے۔
ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ احتجاج کسی فوری انقلابی تبدیلی میں بدل جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر استعماری سازشیں کامیاب ہو بھی جائیں اور رجیم چینج ہو جائے، تب بھی 1979ء کی تاریخ دہرانے کے بجائے ایران کے امن و امان کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ زیادہ ہے۔ ایرانی عوام اتنے باشعور ہیں کہ وہ شہداء کے وطن کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ ان کا نجات دہندہ نہیں—ان کا اصل ہدف ایران کے تیل کے ذخائر ہیں—اور اس کی سب سے بڑی مثال وہ وینزویلا کو سمجھتے ہیں۔







