مقبوضہ القدس میں سہ فریقی اجلاس کے بعد اسرائیل ترکیہ کا دشمن نمبر ایک بن گیا، عبری میڈیا

26 دسمبر, 2025 14:53

شیعیت نیوز: ایک عبری زبان کے میڈیا ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ ترک میڈیا کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ مقبوضہ القدس میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے بعد، اسرائیل انقرہ کی نظر میں ترکیہ کا دشمن نمبر ایک بن چکا ہے۔

عبری امور سے متعلق خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عبری زبان کی نیوز ویب سائٹ وائے نیٹ (روزنامہ یدیعوت آحارانوت کا آن لائن ایڈیشن) نے رپورٹ کیا ہے کہ آج صبح ترکیہ کے میڈیا پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکیہ کے تمام سکیورٹی اداروں نے اب اسرائیل کو اپنے ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان بحران اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

اس عبری میڈیا کے مطابق، اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان سفارتی بحران غیر معمولی اور بے مثال سطح تک پہنچ گیا ہے، اور مقبوضہ القدس میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد یہ بحران اپنے انتہائی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ یونان اور قبرس کے رہنما شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عراقی قانون کے مطابق اسرائیل سے تعلقات جرم ہے، مقتدیٰ الصدر

رپورٹ کے ایک حصے میں ترک اخبار ینی شفق میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی حکومت کے تمام سکیورٹی ادارے اسرائیل کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

فی الوقت ترکیہ کے سرکاری ادارے، جن میں وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور قومی انٹیلی جنس ادارہ (MIT) شامل ہیں، اسرائیل کو خطرہ نمبر ایک قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ادارے اب اسرائیل کو اپنی اولین ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہیں۔

یہ ردعمل ترکیہ کی جانب سے ایک غیر معمولی قدم تصور کیا جا رہا ہے، جو اسرائیل، قبرس اور یونان کے درمیان مشترکہ فوجی تعاون کے اعلان کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا۔

اس تناؤ کو ترک صدر رجب طیب اردوان کے اس بالواسطہ انتباہ نے بھی ہوا دی، جو انہوں نے ایک آبدوز اور جنگی جہازوں کی تقریب آغاز کے دوران دیا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے حقوق پامال نہیں ہونے دیے جائیں گے۔

پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکیس اور قبرس کے صدر نیکوس کریستودولیدس شریک تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بالواسطہ طور پر اردوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک سلطنت قائم کر سکتے ہیں اور ہماری سرزمین پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ یہ خیالات ذہن سے نکال دیں۔

ایسا نہیں ہوگا۔ اس کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیں۔ ہم اپنے دفاع کے لیے پرعزم اور مکمل طور پر اہل ہیں، اور یہ تعاون ہماری صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

وائے نیٹ نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ پردے کے پیچھے، امریکہ اب بھی اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں ترکیہ کی شمولیت، خاص طور پر ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کے فریم ورک میں، قبول کرے—ایسی شمولیت جس کی اسرائیل سخت مخالفت کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں، ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے کہا کہ سب کے لیے واضح ہے کہ ترکیہ اس بین الاقوامی فورس کا حصہ نہیں ہوگا۔

اسی دوران ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انقرہ میں حماس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور ترکیہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے سابق سربراہ الون لیل نے خبردار کیا ہے کہ تل ابیب، ایتھنز اور نیکوسیا کے درمیان فوجی تعاون اور اتحاد کو دیکھتے ہوئے، ترکیہ اسرائیل کے ساتھ مستقبل کی جنگ کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

لیل نے وائے نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ترکیہ جنگ کی تیاری کر رہا ہے، اور میں نے ان کی تیاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

وہ اسے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے اور فضائیہ کو تقویت دینے کے نام پر بیان کرتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے بھاری بجٹ مختص کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملے کے خدشے میں حقیقی خوف کا شکار ہیں اور اس خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

6:23 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top