ابراہیمی معاہدہ فلسطینی کاز کو دفن کرنے کی خطرناک سازش ہے، علامہ حیات عباس نجفی

25 دسمبر, 2025 08:34

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری صہیونی جارحیت دراصل امریکہ کی سرپرستی میں فلسطینی مزاحمت بالخصوص حماس سمیت تمام مزاحمتی تنظیموں کو ختم کرنے کی منظم سازش ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی صہیونی ریاست کے ذریعے نہ صرف فلسطینی عوام کی نسل کشی کر رہے ہیں بلکہ خطے میں مزاحمت کی ہر آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔

ابراہیمی معاہدہ دراصل اسرائیل کو تسلیم کرانے اور فلسطینی کاز کو دفن کرنے کی ایک خطرناک سازش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرک میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کا پولیس موبائل پر حملہ، سپاہ صحابہ کے 8 دہشت گرد ہلاک

افسوسناک امر یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کو بھی اس معاہدے میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جو کہ پاکستان کے تاریخی، نظریاتی اور عوامی جذبات کے سراسر منافی ہے۔

پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ اور مظلوم اقوام کی حمایت پر رکھی گئی ہے۔

فلسطین کے معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ صرف شہدائے فلسطین کی قربانیوں سے غداری ہوگا بلکہ بانی پاکستان کے اصولی موقف سے بھی انحراف کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کبھی بھی امریکہ یا اسرائیل کے دباؤ میں آکر ابراہیمی معاہدے جیسے سامراجی منصوبے کا حصہ بننا قبول نہیں کریں گے۔

حکومت پاکستان پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کی غلامانہ پالیسیوں کو ترک کرتے ہوئے فلسطینی عوام اور ان کی جائز مزاحمت کی کھل کر حمایت کرے۔

امریکہ کا اصل مقصد حماس سمیت تمام مقاومتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا ہے اور اس ایجنڈے کا حصہ بننا پاکستانی عوام کو کسی صورت قبول نہیں۔

عوام ایسے اقدامات کے خلاف کھڑے ہوں گے اور اقتدار کو چند ہاتھوں میں قید رکھنے کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے۔

غزہ کے حوالے سے موجودہ اقدامات پاکستان، اس کے عوام اور امت مسلمہ پر ظلم ہیں اور عوام اس بادشاہت نما طرز حکمرانی کو مسترد کرتے ہیں۔

انشاء اللہ عوامی قوت کے سامنے ایسے حکمرانوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

6:26 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top