اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا حوزوی کتاب میلہ، ڈاکٹر کاظم سلیم کا انٹرویو: قلمی استعداد کو فعال کرنے کی کوشش

14 دسمبر, 2025 09:26

شیعیت نیوز: اسلام آباد میں جامعۃ المصطفیٰ نمائندگی پاکستان کے شعبۂ تحقیق کے زیرِ اہتمام ملکی نوعیت کا پہلا تین روزہ کتاب میلہ منعقد ہو رہا ہے، جس میں پاکستان بھر کے دینی و حوزوی علمی و قلمی آثار کی نمائش کی جا رہی ہے۔

حوزہ نیوز کے نمائندے نے جامعۃ المصطفیٰ پاکستان میں شعبۂ تحقیق کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر کاظم سلیم سے گفتگو کی، جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

انہوں نے گفتگو کے آغاز میں کتاب میلہ کا تعارف اور اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب میلہ الحمد للہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے۔ بدقسمتی سے اس سے پہلے ہمارے یہاں ایسا کوئی کانسپٹ یا تصور نہیں تھا کہ ہم حوزوی سطح پر ایک جشنوارے کا انعقاد کریں اور ملک بھر سے ہمارے حوزوی محققین، مترجمین اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ افراد کو اکٹھا کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: جامعۃ المصطفیٰ پاکستان میں ہفتہ تحقیق: عصر حاضر کے شبہات کا علمی جواب دینے کی ضرورت پر زور

ڈاکٹر کاظم سلیم نے کتاب میلہ کے بنیادی مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں جو تحقیقی امور اور لکھنے پڑھنے کا کام ہے خصوصاً حوزوی سطح پر، وہ کم رنگ ہوتا جا رہا ہے لہٰذا اسے دوبارہ فعال کرنا اور ایسے پوٹینشل افراد کو جن کے اندر قلمی استعداد ہے انہیں دوبارہ بروئے کار لانا اور اپنے ٹریک پر لگانا، یہ بنیادی ہدف ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے پورے پاکستان میں پہلے مرحلے میں ایسے افراد کی شناسائی کی ہے جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان کے آثار کی جمع آوری کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سارے ایسے لوگ تھے جنہوں نے 10 سال، 20 سال، 30 سال پہلے کوئی نہ کوئی علمی کام کیا ہے لیکن بدقسمتی سے چونکہ پاکستان میں وہ فضا نہیں ہے اور ان کی درست پشتیبانی بھی نہیں ہوتی اور اسی طرح ان افراد کے اقتصادی اور معاشرتی مسائل ہیں جس وجہ سے لوگوں نے اس کام کو ترک کر کے اپنے لیے کوئی اور پیشہ انتخاب کیا ہوا ہے۔ تو ایسے لوگوں کی شناسائی اور ان کو دوبارہ سے فعال کرنا ہمارا مقصد ہے کیونکہ حوزہ علمیہ کے اندر ہم 10 سال، 20 سال، 30 سال ایک نیرو پر سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن جب ان سے کام لینے کا مرحلہ آتا ہے تو اسے یوں ہی بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے تو انہی مقاصد کے تحت یہ کام کیا ہے۔

جامعۃ المصطفیٰ پاکستان میں شعبۂ تحقیق کے سربراہ نے کہا کہ الحمد للہ پہلے مرحلے میں باوجود اس کے کہ وسائل اور ٹائم وغیرہ کی کمی تھی لیکن اس کے باوجود جو استقبال تھا وہ ہماری توقعات سے بڑھ کر ہے اور اس وقت تقریباً 40 کے لگ بھگ باقاعدہ تحقیقاتی ادارے اس پروگرام میں شریک ہیں اور اس کے علاوہ جو متفرق طور پر ہمارے علماء اور فارغ التحصیلان کا علمی و قلمی کام ہے اور اسی طرح جو صوبائی اسٹاک ہے اس کو بھی ہم نے صوبائی سطح پر جمع کرنے کی اور یہاں پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے تو الحمد للہ تقریباً یہاں پر اس وقت 30 کے قریب غرفے (بوتھز) لگ چکے ہیں اور بعض غرفوں میں کئی ادارے باہم شریک ہیں چونکہ ہمارے پاس فضا کی کمی اور ہماری ضرورت کے مطابق فراہم نہیں ہے اس لیے مجبوراً ان سب کو اس فضا میں جگہ دینی پڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تین روزہ پروگرام تھا جس کا بروز جمعہ 12 دسمبر 2025ء کو باقاعدہ افتتاح ہوا ہے۔ اس میں پہلے دن کو ہم نے یوم خواتین کی مناسبت سے مختص کیا تھا۔ راولپنڈی، اسلام آباد اور گرد و نواح کے جتنے خواہران کے مدارس ہیں ان کے اساتذہ و طالبات شریک تھیں۔ جس میں تقریباً کوئی 400 کے لگ بھگ خواہران نے کتاب میلہ کا وزٹ کیا اور وہ بھی اس علمی پروگرام کا حصہ بنیں۔ 14 دسمبر 2025ء کو انشاء اللہ اس کتاب میلہ کا اختتام ہو گا اور اختتامی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔

4:43 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top