ایران فلسطینی مزاحمت کا سب سے مضبوط حامی ہے، خالد مشعل کا الجزائر انٹرویو

11 دسمبر, 2025 15:35

شیعیت نیوز: حماس کے سینئر رکن خالد مشعل نے الجزائر ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران برسوں سے فلسطینی عوام اور مزاحمت کا مضبوط ترین حامی رہا ہے۔ حماس اس مسلسل معاونت کی قدردان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حماس نے اپنے سفر کے دوران مختلف عرب ممالک سے حمایت حاصل کی، مگر ایران کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا۔ حماس کسی ایک محور تک محدود نہیں، تاہم کچھ عرب و اسلامی ممالک کے رابطہ بند کرنے سے غلط تاثر پیدا ہوا۔

مشعل نے کہا کہ حماس اپنی عرب و اسلامی شناخت کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی پر کاربند ہے اور امید کرتی ہے کہ امریکہ کو بھی اپنے دفاعی موقف، خصوصاً ہتھیاروں کے حوالے سے سمجھانے میں کامیاب ہوگی۔

انہوں نے فرمایا کہ غزہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور اب وقت ہے کہ خطہ کھڑا ہو کر نئے سرے سے بحالی کی طرف بڑھے۔ اسرائیلی مطالبات کے جواب میں کہا کہ فلسطینیوں سے ہتھیار چھیننا روح کو جسم سے جدا کرنے کے مترادف ہے۔ حماس ایک ایسے ماڈل پر بات کر رہی ہے جس میں مزاحمتی قوت برقرار رہے، مگر جنگ کا دوبارہ آغاز نہ ہو۔ طویل المدتی جنگ بندی کا تصور بھی ضمانت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مشعل نے واضح کیا کہ خطرہ غزہ سے نہیں بلکہ اصل خطرہ اسرائیلی جارحیت سے ہے، اور عالمی برادری کو حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گردسرغنہ اورنگزیب فاروقی سے ملاقات

غزہ کی آئندہ حکمرانی کے حوالے سے بتایا کہ پہلے ایک ٹیکنوکریٹ حکومت پر اتفاق ہوا تھا جس کی عملداری غزہ اور غرب اردن دونوں علاقوں تک ہوتی، مگر جنگ اور اسرائیلی ویٹو نے اسے روک دیا۔ مصر میں فلسطینی گروہوں کی مشاورت میں 40 ناموں میں سے 8 کو غزہ کی نمائندگی کے لیے چنا گیا، مگر اسرائیل نے مداخلت کی۔

انہوں نے امریکی صدر کے منصوبے میں شامل امن کونسل کو خطرناک قرار دیا کہ یہ فلسطینیوں پر بیرونی طاقت مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ غزہ کی حکمرانی فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے اور فیصلہ بھی انہی کا ہونا چاہیے۔

مشعل نے بین الاقوامی امن فورس کے تصور کی مشروط حمایت کا اظہار کیا، بشرطیکہ اس کا مقصد غزہ کو اسرائیلی افواج سے جدا رکھنا ہو۔ قطر، مصر، ترکی اور آٹھ عرب و اسلامی ممالک ضامن کے طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ غزہ سے مسلح کارروائی کا خدشہ نہ رہے۔

مزاحمت کے مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ نے اپنا حصہ پورا کر لیا ہے، حتیٰ کہ توقع سے زیادہ، اب دنیا کو اس کی بحالی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ مسئلہ فلسطین دوبارہ اپنے اصلی مقام پر لوٹ آیا ہے جبکہ اسرائیل عالمی سطح پر منفور عنصر بن رہا ہے کیونکہ وہ کھلے عام نسل کشی کر رہا ہے۔

آخر میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، جسے تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کی سیاسی حکمت عملی ناکام ہو چکی اور عوام اسے ایک سیکیورٹی ٹول کے طور پر دیکھتے ہیں۔

2:59 صبح مارچ 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔