سعودی عرب میں 8 ماہ سے لاپتہ پاکستانی عالمِ دین مولانا غلام حسنین وجدانی، حکومتِ پاکستان کی مجرمانہ خاموشی تشویشناک
شیعیت نیوز: مولانا غلام حسنین وجدانی دام ظلہ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، جو قم المقدسہ میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے زیر نظر طالبعلم ہیں۔ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ملکِ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے بہترین افراد کو تبلیغ کے لیے بھیجتی ہے، مولانا غلام حسنین وجدانی بھی اسی سلسلے میں گذشتہ تقریباً بارہ سال سے کوئٹہ پاکستان میں تبلیغِ دین و مکتب حقہ جعفری کی اشاعت و ارشاد میں مشغول تھے۔
اپریل 2025 کو مولانا وجدانی عمرہ کی غرض سے کاروانِ مدینۃ العلم کراچی، جس کے سالار حسن جعفری ہیں، اس گروپ کا ایک دفتر کوئٹہ میں بھی ہے، مولانا وجدانی اس گروپ کے ساتھ تشریف لے گئے تھے۔ سارا گروپ نے روایتی انداز میں اپنے عمرہ مناسک ادا کیے، مگر واپسی پر ایک سانحہ رونما ہوا، جس نے آٹھ ماہ سے سب کو حیرت و پریشانی کا شکار کر رکھا ہے۔
مولانا غلام حسنین وجدانی جو عمرہ زائرین گروپ کے ساتھ تھے، انہیں طائف ایئرپورٹ سے گرفتار کرکے غائب کر دیا گیا۔ سعودی حکومت نے 19 اپریل 2025 کو عمرہ سے واپسی پر طائف ایئرپورٹ پر بلاجواز گرفتار کرتے کسی کو جرم یا الزام نہیں بتایا۔
ظاہری طور پر سعودیہ جیسے حبس زدہ، ناصبیت کے پروردہ ملک میں اچانک سے مہمانانِ خدا کے ساتھ ایسا ہو جانا بہت پریشان کن تھا۔ ایک بندہ جو تمام مناسک بڑے اہتمام سے ادا کرکے اپنے گھر واپس پہنچنے کا سوچ رہا تھا، اسے روک لینا باقی گروپ کے لیے بھی خاصا پریشان کن تھا، مگر اس وقت کوئی کیا کر سکتا ہے۔ ظاہری بات ہے، بے بسی و لاچاری ہی تھی۔ کوئی بھی کچھ کرنے کی پوزیشن نہیں رکھتا تھا۔ اس وقت تو بہت دور، آج آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود بھی کوئی کچھ نہیں کر پایا ہے۔ اس لیے کہ کون سعودیہ میں جا کر اتنا رسک لے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم لشکرِ جھنگوی کے دہشت گرد کی تینوں سگی بہنوں سے مہینوں تک جنسی زیادتی، ملزم گرفتار
اطلاعات ہیں کہ کافی عرصہ انہیں نامعلوم جیل میں رکھا گیا، ورثاء کو کسی بھی قسم کی اطلاع نہیں تھی، مگر کچھ وقت گزر جانے کے بعد ان کے بارے معلوم ہوا کہ وہ جدہ جیل میں موجود ہیں، جہاں دو ہفتے بعد ان کی گھر ٹیلی فون پر بات بھی ہو جاتی ہے، مگر سعودیہ میں انہیں نہ تو وکیل کی سہولت میسر ہے، نہ خرچ اخراجات کے لیے کسی نے مدد کی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق سفارتِ پاکستان سے ایک فرد نے ایک بار ان سے ملاقات کی اور چند سو ریال بھی انہیں خرچ کے لیے دیے۔ اب تو بس ایسا ہے کہ "کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں”۔
ایسا تصور بھی محال ہے، ایک گھٹن زدہ معاشرہ جہاں عدل و انصاف اور اسلام کے نام پر اسلام کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں، ایک مہمان مسافر زائر کو بلاجواز، بغیر جرم بتائے، آٹھ ماہ سے قید کر رکھا ہے۔ ان کے خاندان، اہلِ خانہ بہت پریشان ہیں اور درِ در کی ٹھوکریں کھا کر مایوسی اور ناامیدی میں غیبی مدد کے امیدوار ہیں۔ علامہ وجدانی ایک باشرف عالمِ دین اور مبلغ کے طور پر کوئٹہ میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ سعودی حکومت نے انہیں کسی بھی بڑے الزام میں چارج شیٹ نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں کچھ ایجنٹس کی غلط رپورٹنگ پر اٹھا لیا گیا ہو، کوئٹہ میں اس سے قبل بھی ان کی مخالفت ہوتی رہی ہے، ایک بھونڈے کیس میں انہیں گرفتار کروایا گیا تھا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک نامور، بہترین، باعمل عالمِ دین کی یوں تذلیل، گرفتاری اور غیب کیا جانا، ایک قوم، جس کی فعالیت اور نمائندگی پارلیمنٹ تک ہے، کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے، ایک عمرہ زائر ہونے کے حوالے سے ان کے حقوق کی پاسداری لازمی اور یقینی طور پر ہونی چاہیے تھی، مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس ساری صورتحال میں نہایت ہی افسوس ناک و تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قومی جماعتوں اور تنظیموں کی اپنی اپنی ترجیحات اور پسند و ناپسند کے باعث وہ کسی بھی مرکزی شخصیت یا جماعت کے مصاحبان میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کسی بھی سطح پر احتجاج، اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے سامنے مطالبات اور رہائی کے لیے اقدامات میں دکھائی نہیں دیے۔ یہ ایک افسوس ناک پہلو ہے کہ اگر کوئی شیعہ آپ کی تنظیم یا جماعت سے منسلک نہیں تو آپ اس کے لیے صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرتے۔
ایک اور خدشہ اور امکانی صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ ملک کے اہم ترین اداروں، حوزوں اور شخصیات نے حج و عمرہ کاروباری گروپس بنا رکھے ہیں، جو حج و عمرہ کے ذریعے کروڑوں روپے کماتے ہیں، انہیں یہ خدشہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ احتجاج کرتے ہیں، کسی حکومتی شخصیت کو اس بابت خط لکھتے ہیں، سفارت خانے کو احتجاج ای میل بھیجتے ہیں تو وہ نگاہوں میں آ جائیں گے اور ان کو حج و عمرہ کے لیے بین بھی کیا جا سکتا ہے یا سعودی حکومت انہیں وجدانی صاحب کی طرح وزٹ پر اسیر بھی کر سکتی ہے۔ یہ ایک خدشہ کے طور پر عرض کیا ہے، اس لیے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی جماعت، شخصیت، تنظیم یا ادارے نے اس اہم ترین مسئلے پر کھل کر کچھ بیان نہیں کیا۔
سوچنے کی بات ہے کہ یہ بے حسی ہے، کمال حکمت و دانائی یا احساس سے عاری رویہ، یہ جو کچھ بھی ہے، کسی بھی طور ایک قوم و ملت کے شایانِ شان نہیں۔ اس ایشو کو ایک بے گناہ، مظلوم جس کا کوئی پرسانِ حال و مددگار نہیں، کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔ اگر ملی و قومی جماعتوں میں دم خم نہیں تو پاکستان میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں اور بہت سے اداروں کے لوگوں کو اس جانب متوجہ کرنا چاہیے، "شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات” کے مصداق کچھ مدد ہو جائے۔ ہمارے خیال میں اس مسئلے پر اعلیٰ شیعہ قائدین کو بلا جھجھک سامنے آکر حکومتِ پاکستان کے ذریعے ان کی بلاجواز رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے پاکستان میں تعینات سعودی سفیر سے بھی وقت لینا پڑے تو لے کر تشویش پہنچانی چاہیے، مگر عملی طور پر ایک محاورہ یاد آ رہا ہے، جو اس ساری صورتحال کو مزید واضح کر دے گا: "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے!”







