اسلام آباد: 1965 سے آباد شیعہ بستی مسلم کالونی پر بلڈوزر، گلگت بلتستان کے 150 خاندان بے گھر
شیعیت نیوز: اسلام آباد کے علاقے بری امام میں 1965 سے آباد مسلم کالونی کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کرنے کا سلسلہ جاری، گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد شیعہ خاندانوں کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں
اسلام آباد کے سیکٹر I-11 کے قریب بری امام میں واقع مسلم کالونی، جو 1965 سے آباد ہے اور جس میں گلگت بلتستان کے 150 سے زائد مومن خاندان رہائش پذیر ہیں، کو سی ڈی اے نے غیر قانونی قرار دے کر گزشتہ ایک ہفتے سے بلڈوزر چلا رکھے ہیں۔
یہ وہ خاندان ہیں جن میں زیادہ تر افراد کارگل جھنگ کے دوران اپنے گھر بار چھوڑ کر جان بچانے کے لیے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے۔ اب ان کے سروں پر چھت تک چھین لی گئی ہے۔
گھر مسمار ہونے کے باوجود نہ تو متبادل جگہ دی گئی، نہ کوئی نوٹس اور نہ ہی کوئی معاوضہ۔ خواتین، بچے اور بزرگ سڑکوں پر بیٹھے رو رہے ہیں مگر حکومتی اداروں اور سیاسی قیادت کی مجرمانہ خاموشی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ شبیر میثمی کی آیت اللہ حافظ بشیر نجفی کے برادر کی وفات پر تعزیت کی، آبائی گھر آمد
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مسماری کا عمل روکا جائے اور ان خاندانوں کو متبادل رہائش فراہم کی جائے۔







