TTP کی خونریزی پر کالعدم سپاہِ صحابہ کی مشکوک خاموشی، قوم پوچھتی ہے: یہ اتحاد ہے یا غداری؟
شیعیت نیوز: دہشت گردی کی نئی خونریز لہر کے بعد سپاہِ صحابہ پاکستان اور اس کے سرغنہ ملعون اورنگزیب فاروقی پر قوم کا غصہ پھٹ پڑا، سنگین سوالات اٹھنے لگے: کیا یہ وہی گروہ ہے جو TTP کا فکری باپ ہے؟
سیکیورٹی اداروں اور تجزیہ کاروں نے کھل کر کہہ دیا کہ سپاہِ صحابہ برسوں سے وہی زہریلا بیانیہ پھیلا رہی ہے جو تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد ہے۔ دونوں کا نظریہ، دونوں کا ہدف، دونوں کا طریقہ کار ایک ہی ہے۔
حیرت انگیز اور قابلِ گرفت بات یہ ہے کہ جب TTP نے ہزاروں پاکستانی شہریوں، فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کا خون بہایا، اس دوران سپاہِ صحابہ کے کسی خطیب، کسی مسجد اور کسی جلسے سے طالبان کی ایک لفظ مذمت بھی نہ نکل سکی۔
یہ بھی پڑھیں: داعشی تکفیری جولانی کا اسرائیل کے 7 حملوں پر بھی منہ بند، “ایران سے گولی نہ چلے گی” والوں کی حقیقت کھل گئی
ماہرینِ امن و امان نے خبردار کیا کہ اب “نرم گوشہ” رکھنے کا وقت گزر چکا۔ جو گروہ دہشت گردی کی فکری جڑیں مضبوط کرے، اسے “سیاسی جماعت” کہہ کر چھوڑنا قومی سلامتی سے غداری کے مترادف ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا برملا کہنا ہے کہ TTP کے ساتھ براہ راست رابطہ ہو یا نہ ہو، لیکن فکری ہم آہنگی اور نظریاتی سرپرستی خود ایک کھلا جرم ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اس زہریلی سوچ کی بیخ کنی کرے۔
قوم کا براہ راست سوال: “جب طالبان ہمارے بچوں کو مارتے ہیں تو سپاہِ صحابہ کیوں منہ بند رکھتی ہے؟ آخر کب تک دہشت گردی کے فکری باپ دادوں کو تحفظ دیا جاتا رہے گا؟”







