تلہ گنگ: افغان دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب، قاسم عرف حسن کا اعتراف طالبان کمانڈر ارمانی کی سازش ظاہر

02 دسمبر, 2025 13:21

شیعیت نیوز: پاکستان میں افغان شہریوں کی جانب سے دہشت گردی پھیلانے کا منظم نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔ تلہ گنگ سے افغان شہری کی گرفتاری اور اس کے اعترافی بیان نے افغان دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔

تلہ گنگ سے گرفتار افغان دہشت گرد نے اپنے اعتراف میں کہا کہ میرا نام قاسم عرف حسن ہے اور میرے والد کا نام لال خان ہے۔

گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ میری قوم دلوذی ہے اور میں افغانستان کے گردیز صوبے کا رہنے والا ہوں۔ 10 سال پہلے فیملی سمیت افغانستان سے لکی مروت پاکستان آیا، ہم یہاں پلے بڑھے، رزق کمایا اور یہاں کے لوگوں سے بہت پیار ملا۔

یہ بھی پڑھیں: سی سی ڈی کا بڑا کریک ڈاؤن: کالعدم لشکر جھنگوی کے 6 منشیات فروش دہشت گرد مقابلوں میں ہلاک

گرفتار دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ سرہ درگہ میں 2025 میں طالبان کمانڈر ارمانی کے ساتھ میری ملاقات ہوئی۔ طالبان کمانڈر ارمانی نے مجھے جہاد کی طرف دعوت دی اور میں اس کے لیے شامل ہو گیا۔ پہلی دفعہ میں نے تنظیم میں 20 دن گزارے اور کمانڈر ارمانی نے مجھے فدائی کرنے کا کہا۔

مزید انکشافات کرتے ہوئے گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ کمانڈر ارمانی نے مجھے اور فاروق نامی ساتھی کو تاجوڑی میں فوجی قلعے پر فدائی کرنے کی غرض سے ریکی کروائی لیکن مناسب موقع نہ ملنے پر ہم فوجی قلعے پر فدائی حملہ نہ کر سکے۔

دہشت گرد قاسم عرف حسن نے بتایا کہ کچھ عرصے بعد کمانڈر ارمانی کے مشورے پر میں تنظیم میں واپس چلا گیا۔ تنظیم میں کمانڈر ارمانی نے مجھے نئے لوگ تلاش کرنے کا کہا، میں نے 5 بندے کمانڈر ارمانی کے حوالے کیے جن کے عوض مجھے فی بندہ 10 ہزار روپے ملے۔

دہشت گرد کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ستمبر میں کمانڈر ارمانی کے مشورے پر میں پنجاب چلا گیا۔ پنجاب جانے کا مقصد لڑکے تلاش کرنا اور تنظیم میں شامل کرنا تھا۔ پنجاب میں کچھ دن گزارنے کے بعد مجھے پولیس نے گرفتار کر لیا۔

گرفتار دہشت گرد کی اعترافی ویڈیو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔ پاکستان پہلے بھی دنیا کے سامنے دہشت گردی میں افغان سرزمین کے استعمال کے متعدد شواہد پیش کر چکا ہے۔

9:50 شام اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔