آج کی غلامی فرد کی نہیں، پوری قوموں اور ریاستوں کی ہے، علامہ ساجد علی نقوی

02 دسمبر, 2025 12:54

شیعیت نیوز: علامہ سید ساجد علی نقوی نے 2 دسمبر، غلامی کے خاتمے کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا: انسانیت ماضی کی نسبت اب زیادہ سخت اور سنگین ترین غلامی کا شکار ہے۔ انسان کو آزاد پیدا کیا گیا مگر ہر دور میں اسے ایک نئے انداز میں غلامی کا سامنا کرنا پڑا، فرد کی غلامی کی جگہ اب قوموں اور ریاستوں کی غلامی نے لی جو کہیں زیادہ سخت ہے۔

انہوں نے کہا: آج عالمی سرمایہ داری نظام، کیپٹل ازم اور اس جیسے دوسرے بظاہر خوبصورت نعروں نے نہ صرف افراد بلکہ معاشروں، قوموں اور ریاستوں کو غلامی کی ایسی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے جس سے چھٹکارا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے نوجوانوں کو تعلیم و دین سے دور کر دیا، علامہ اشفاق وحیدی

علامہ ساجد نقوی نے کہا: آج کے دور میں انسانیت مختلف قسم کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے جن میں معاشی، معاشرتی (تہذیبی) اور سیاسی غلامی شامل ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے مختلف قوموں اور ریاستوں کو جکڑ رکھا ہے، اقتصادی پابندیوں کے جال اور آئے روز عریاں جارحیت کے ذریعے انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے اور ان کی زمینیں انہی پر تنگ کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب سنگین ترین و خطرناک تہذیبی غلامی ہے جس نے انسان کے شعور پر حملہ کر کے اور غیر فطری تہذیب کو مسلط کر کے اس سے سوچنے اور جینے کا حق تک چھین لیا ہے۔ تیسری جانب سامراجی طاقتیں اپنی سیاسی چالوں کے ذریعے قوموں پر مسلط ہیں۔ ان سب پہلوں کی لا تعداد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ایک روشن مثال فلسطین اور غزہ ہے جہاں سامراجیت اور غلامی اپنی آخری حدوں سے تجاوز کر چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: جب تک دنیا میں مساوی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کی جائے گی اور بین الاقوامی چارٹرز جو صرف بیانات کی حد تک ہیں ان پر عمل پیرا نہیں ہوا جائے گا، اس وقت تک انسانیت کو غلامی سے نجات ملنا ممکن نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں غلامی سے نجات کا عالمی دن 2 دسمبر 2025ء بروز منگل کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد انسانی اسمگلنگ، بچیوں کی جبری شادی، چائلڈ لیبر، جنسی استحصال جیسے سنگین جرائم کے خاتمے اور انسانیت کی آزادی کے شعور کو اجاگر کرنا ہے۔

9:31 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔