حزب اللہ لبنانی حکومت کی دفاعی کمزوری کی وجہ سے وجود میں آئی، لبنانی رکن پارلیمنٹ
شیعیت نیوز : لبنانی پارلیمنٹ کے رکن محمد رعد نے کہا ہے کہ حزب اللہ اس وقت وجود میں آئی جب حکومت عوام کے دفاع میں ناکام ہوگئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی دشمن نے اولی البأس آپریشن میں جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں پر قبضے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، لیکن اس کے بعد سے وہ اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتا رہا اور فضائی، زمینی اور سمندری جارحیتیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صہیونی گماشتوں کے خلاف فلسطینی مزاحمت کا کامیاب آپریشن، متعدد گرفتار
محمد رعد نے کہا کہ دشمن مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، ان کے گھروں کی تعمیرِ نو میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور انہیں اپنے دیہاتوں میں واپس جانے سے روکتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ پورے لبنان کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بعض لبنانی حلقے غاصب اسرائیلی جارحیتوں کو جواز فراہم کرتے ہیں اور دشمن کے جرائم کے لیے اس کے بہانوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ صہیونی منصوبہ پورے لبنان کو نگل جانے کا ہے۔
رعد نے زور دیا کہ لبنانی عوام کا اتحاد اور داخلی یکجہتی ہی صہیونی جارحیت کے خلاف سب سے بڑی ڈھال ہے، اور تمام لبنانیوں کو ایک مؤقف پر متحد ہونا چاہیے تاکہ دشمن اپنے اہداف میں کامیاب نہ ہو۔ ان کے بقول، صہیونی درندگی کی سب سے بڑی وجہ لبنانی معاشرے میں اختلافِ رائے اور تفرقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دشمن کو یہ موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہمارے داخلی اختلافات سے فائدہ اٹھائے۔ حزب اللہ اپنی قومی ذمہ داری اسی وقت تک نبھاتی رہے گی جب تک ریاست خود اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کی صلاحیت اور آمادگی ثابت نہیں کر دیتی۔
محمد رعد نے مزید کہا کہ جب قومی سلامتی اور دفاع کا جامع منصوبہ زیر بحث آئے گا، تو اس میں مزاحمت کا کردار واضح طور پر تسلیم کیا جائے گا، جو دیگر قومی اداروں اور فوج کے کردار کے ساتھ مل کر ملک کے دفاع میں اپنا حصہ ادا کرے گی۔







