گلگت میں علماء کا ہنگامی اجلاس: تکفیری عناصر کی پھیلتی سازشوں کے خلاف دوٹوک مطالبات

27 اکتوبر, 2025 15:19

شیعیت نیوز: گلگت ڈویژن اور ضلع استور کے ائمۂ جمعہ و جماعت اور خطباء کی ایک نہایت اہم و ہمہ گیر کانفرنس جامع مسجد شہید آغا سید ضیاء الدین گلگت میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت آغا سید راحت حسین الحسینی نے کی — کانفرنس میں نگر، ہنزہ، حراموش، جلال آباد، بگروٹ، بارگو، شروٹ، گاہکوچ اور استور سے آئے ہوئے ائمہ و خطباء نے بھرپور شرکت کی اور عالمی، ملکی و علاقائی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

علما و خطباء نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور مسلسل دراندازی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور عالمی امن کے قیام میں اپنا مؤثر و فعال کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیں: علامہ شیخ احمد علی نوری مجلس علمائے مکتبِ اہل بیتؑ گلگت بلتستان کے صوبائی صدر منتخب

ملکی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شرکاء نے کراچی میں صوبائی اداروں کی جانب سے ملتِ تشیع پر الزامات اور دہشتگردی کا رخ موڑنے کی ناکام کوششوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ مقررین نے اسلام آباد میں تکفیری عناصر خصوصاً اورنگزیب فاروقی اور احمد لدھیانوی جیسے شرانگیز عناصر کو عوامی اجتماعات کی اجازت دینے کو ریاستی اداروں کی ناکامی قرار دیا اور ان کی طرف سے ملتِ تشیع کے خلاف پھیلائی جانے والی زہریلی پروپیگنڈے اور اکابرین کی توہین پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رہے۔

علاقائی حالات کے تناظر میں علماء نے متفقہ طور پر کہا کہ اہلسنت بھائیوں کے ساتھ مضبوط اور بامقصد روابط استوار کیے جائیں گے تاکہ دشمن کی سازشیں ناکام ہوں اور گلگت بلتستان میں دیرپا امن، بہترین تعلیمی مواقع اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ کانفرنس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تفرقہ پھیلانے والے تکفیری عناصر کے خلاف سخت اور دوٹوک موقف اپنایا جائے گا تاکہ ان کے شر کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

کانفرنس کے آئندہ لائحۂ عمل کے تحت طے پایا کہ گلگت بلتستان کے ائمۂ جمعہ و جماعت کے مابین ہر تین ماہ بعد اجلاس منعقد ہوں گے، تاکہ امن و امان، مذہبی اتحاد اور سماجی چیلنجز کا مشترکہ و مربوط جواب دیا جا سکے۔

کانفرنس کے اختتامی کلمات میں آغا سید راحت حسین الحسینی نے زور دیا کہ اتحادِ بین المسلیمن ہی وہ بنیاد ہے جس کے ذریعے اس خطے کو حقیقی معنوں میں امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ فتنہ پرور اور شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ آپ نے نوجوانوں کی دینی و فکری رہنمائی کے لیے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال اور علماء کے ساتھ ان کے تعلقات بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ نئی نسلوں کے دلوں میں نفرت کے بجائے محبت، رواداری اور اخوت پروان چڑھے۔

3:08 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔