اصغریہ اسٹوڈنٹس کا 56واں کنونشن بھٹ شاہ میں؛ حضرت زینبؑ کی شان میں وحدتی تقریبات
شیعیت نیوز : اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا 56واں سالانہ کنونشن وحدتِ امت، دفاعِ اسلام کے عنوان سے بھٹ شاہ میں منعقد ہوا۔ تین روزہ کنونشن کے اختتام پر منعقدہ یومِ حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی سرپرست کونسل کے رکن اور مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ کائنات کی زینت حضرتِ علی علیہ السلام اور خاتونِ جنت حضرتِ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا ہیں اور ان دونوں کی زینت کا نام زینب کبری سلام اللہ علیہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اپنے والدِ محترم حضرتِ علیؑ کی زینت قرار دیتے ہوئے آپ کا اسمِ گرامی زینب رکھا۔ آپ عالِمہ غیر معلّمہ کے منصب پر فائز تھیں اور علومِ الٰہی براہِ راست اپنے خالق سے حاصل کرتی تھیں۔ آپ نے واقعۂ کربلا کی الٰہی و عرفانی تفسیر پیش کی اور قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں وقت کے ظالم یزید و ابنِ زیاد کو للکارا اور رسوا کیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہر دور کے اہلِ حق کے لیے اسوۂ عمل ہیں۔ آج کی دنیا کی کربلا غزہ ہے، جہاں یمن، لبنان، ایران اور فلسطین کے عاشقانِ خدا وقت کے یزید و ابنِ زیاد یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ شیخ احمد علی نوری مجلس علمائے مکتبِ اہل بیتؑ گلگت بلتستان کے صوبائی صدر منتخب
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ عصرِ حاضر میں غزہ کو زینبی و قرآنی تفسیر کی ضرورت ہے؛ سانحہ غزہ کی وہ تفسیر جو ٹرمپ، بن سلمان اور شہباز شریف پیش کر رہے ہیں وہ شیطانی اور سراسر غلط تشریح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معرکے کا فاتح اسرائیل نہیں بلکہ غزہ ہے اور موجودہ دور میں جس ہستی نے سانحۂ غزہ کی درست قرآنی تفسیر کی ہے وہ مکتبِ اہلِ بیتؑ کے عظیم مفسر، ولیِ امرِ مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ہیں، جنہوں نے اعلان کیا کہ غزہ اور فلسطین فاتح ہیں جبکہ ذلت و رسوائی اسرائیل، نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کا مقدر بن چکا ہے۔
تقریب میں ذکرِ رسولؐ اور مرثیہ خوانی کے بعد مقررین نے کہا کہ سیدہ زینب کبری سلام اللہ علیہا نے ابنِ زیاد کے دربار میں فرمایا: “میں نے کربلا میں جمالِ خدا دیکھا” — آج بھی غزہ کے شہداء کی مظلومیت میں اہلِ حق کو وہی جمالِ الٰہی دکھائی دے رہا ہے۔







