پہلوان گوٹھ کے شہداء کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر دوہرا معیار ناقابلِ قبول ہے، ایڈووکیٹ راشد رضوی
شیعیت نیوز: معروف قانون دان ایڈووکیٹ راشد رضوی نے کہا ہے کہ پہلوان گوٹھ میں دو ماہ قبل چار شیعہ نوجوانوں کو مذہبی تکفیری عناصر نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا، مگر آج تک کوئی قاتل گرفتار نہیں ہوا، جب کہ حال ہی میں تکفیری مکتب کے دو افراد کے قتل کے بعد صرف دو دن میں گرفتاری اور الزام تراشی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کا یہ امتیازی رویہ کھلی ناانصافی ہے، اور سوال اٹھتا ہے کہ شیعہ برادری کے خون کو کیوں ارزاں سمجھا جا رہا ہے؟ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر چار شیعہ نوجوانوں کے قاتل ابھی تک آزاد کیوں ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: مجلس وحدت مسلمین نومبر سے ملک گیر احتجاج شروع کرے گی، علامہ ولایت حسین جعفری
ایڈووکیٹ راشد رضوی نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور سی ٹی ڈی اس دوہرے معیار کو ختم کرے اور پہلوان گوٹھ کے شہداء کے قاتلوں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا کوئی مذہب نہیں، مگر افسوس کہ ریاستی سطح پر انصاف کا ترازو جھکتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔







