امریکہ کے بے بنیاد الزامات کو ایران کا دوٹوک جواب
شیعیت نیوز : ایران نے واشنگٹن کی جانب سے تہران پر علاقائی ممالک کے امور میں مداخلت کے حالیہ الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکی نمائندے مائیکل والٹز کی جانب سے سلامتی کونسل میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہے، جن میں دیگر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت اور حسنِ ہمسائیگی شامل ہیں۔
ایروانی نے کہا کہ خطے میں تنازعات اور عدم استحکام کی اصل وجہ امریکہ کی غیر قانونی فوجی موجودگی اور اس کے تخریبی اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی پراکسیز کا جھوٹا بیانیہ دراصل عالمی توجہ کو اصل مسئلے یعنی امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی غیر مشروط حمایت سے ہٹانے کے لیے گھڑا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نیتن یاہو کے کینیڈا آنے پر انہیں گرفتار کرلیا جائے گا، کینیڈین وزیر اعظم
ایرانی مندوب نے کہا کہ امریکہ نے بارہا سلامتی کونسل کے مینڈیٹ میں رکاوٹ ڈال کر خود کو اسرائیل کے جرائم میں شریک بنا لیا ہے۔ صہیونی حکومت نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ نے غزہ میں 68 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لے لی ہے، جب کہ ہزاروں لاپتہ ہیں۔
انہوں نے قابض صہیونی افواج کی جانب سے غزہ کے بنیادی ڈھانچے، بشمول اسپتالوں اور اسکولوں پر منظم بمباری کی شدید مذمت کی، جس کے نتیجے میں پورا علاقہ تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ مظالم بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں دانستہ جارحیت، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اور غیر قانونی ناکہ بندی شامل ہے۔
ایروانی نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں اسرائیل کو انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جن کے نتیجے میں متعدد اہلکار جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل پورے خطے میں جارحانہ اقدامات کررہا ہے، جن میں شام پر فضائی حملے، لبنان کے خلاف فوجی کارروائیاں اور جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ شامل ہیں۔ اسرائیل نے ایران پر بھی بلااشتعال حملے کیے جن میں عام شہری شہید ہوئے۔
ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل سے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کی خاموشی اسرائیلی مظالم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی انصاف تب ہی ممکن ہے جب ان جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔







