کراچی میں دو شہریوں کی ہلاکت: ہمسایہ ملک پر الزام کے بعد وہابی عناصر کا پروپیگنڈا، مگر اصل حقیقت سامنے آگئی
شیعیت نیوز: گزشتہ روز قومی میڈیا پر ایک خبر نشر کی گئی، یا کروائی گئی، جس میں حالیہ دہشتگردی کے پیچھے ایک ہمسایہ ملک کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
تاہم، اس خبر کے بعد پاکستانی وہابی انتہا پسندوں نے سوشل میڈیا پر شیعہ مسلمانوں اور ایران کے خلاف شدید پروپیگنڈا شروع کر دیا، اور فرقہ وارانہ فضا پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: دو شہریوں کی ہلاکت، جھوٹے الزامات پر ملت جعفریہ کی میڈیا سے معافی کا مطالبہ
مگر آج شام سما نیوز نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم کا تعلق وصی لاکھو گروپ سے ہے، جو ماضی میں لیاری گینگ وار کے دوران عزیر بلوچ کے زیرِ کمان کام کرتا رہا۔
ذرائع کے مطابق، وصی لاکھو پر 100 سے زائد مقدمات پہلے سے درج ہیں، جن میں کراچی کے عباس ٹاؤن کے قریب ایک شراب خانے سے بھتہ وصولی کے دوران 3 افراد کے قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے، جس کا وہ خود اعتراف کر چکا ہے۔
یہ گروپ تقریباً 30 کے قریب افراد پر مشتمل ہے، جو شہر بھر سے بھتہ وصولی کے مختلف نیٹ ورک چلاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، وصی لاکھو اس وقت پاکستان میں موجود نہیں، بلکہ بیرونِ ملک سے اپنے گروہ کو آن لائن ہدایات کے ذریعے آپریٹ کرتا ہے، اور آج تک قانون کی گرفت سے باہر ہے۔
وصی لاکھو کا کہنا ہے کہ
"جو بھی شہر میں جوا، شراب، منشیات یا اسمگلنگ کرتا ہے، اگر اس کے مال میں پولیس یا اداروں کا حصہ بنتا ہے، تو ہمارا بھی حق ہے۔”
یوں، وہ قتل جسے کل شام تک فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا تھا اور جس پر وہابی عناصر نے شیعہ و ایران مخالف مہم چلا رکھی تھی،
درحقیقت ایک نجی بھتہ وصولی کے تنازعے کا شاخسانہ ثابت ہوا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس میں جس رفتار سے متحرک ہوئے،
وہی پھرتی اگر وطن کے محافظ شہداء کے قاتلوں کو پکڑنے میں دکھائی جاتی، تو انصاف کا نظام عوام کا اعتماد بحال کر سکتا تھا۔







