لال مسجد کے مولویوں کے جامعہ حفصہ کی معلمات اور طالبات کے ساتھ نا جائز تعلقات سے نا جائز بچے پیدا ہوئے، مفتی عبدالرحیم
شیعیت نیوز : پاکستان کے معروف مذہبی مدرسے جامعہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے ایک وائرل ویڈیو بیان میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے ماضی کے کردار پر لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ “لال مسجد کی بعض بچیاں شہید نہیں ہوئیں بلکہ زندہ ہیں اور ان میں سے بعض آج بھی تدریسی فرائض انجام دے رہی ہیں۔”
مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کمیشن اور وفاق المدارس کی تحقیقاتی کمیٹی کے پاس اس معاملے کی اصل حقیقت معلوم ہے اور متعدد گواہوں و علما نے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی خفیہ سرگرمیوں اور گمراہ نظریات نے ملک میں 400 سے زائد خودکش دھماکوں اور 80 ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کی شہادتوں کی راہ ہموار کی، اور اس فکری زہر نے خوارج، داعش اور تکفیری وہابی نظریات کو تقویت پہنچائی۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا: "جن نظریات نے نوجوانوں کو گمراہ کیا، وہی فکری زہر لال مسجد سے پھیلا۔ قوم کو جان لینا چاہیے کہ یہ مذہب نہیں بلکہ خوارجیت کا چہرہ ہے جو دین کے نام پر خون اور فتنہ پھیلا رہا ہے۔”
مفتی عبدالرحیم نے دعویٰ کیا کہ لال مسجد کے بعض مولویوں نے جامعہ حفصہ کی طالبات اور معلمات کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھے، اور بعض معلمات نے مبینہ طور پر ناجائز بچے جنم دیے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے پاس کچھ معلمات کے مبینہ میسجز بھی موجود ہیں اور اگر متعلقہ افراد نے جرم کا اعتراف نہ کیا تو وہ وہ پیغامات منظر عام پر لائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ناصبی مولوی سات سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، ویڈیو وائرل
سماجی و سیاسی مبصرین کے مطابق مفتی عبدالرحیم کا یہ بیان پاکستان میں انتہا پسند نیٹ ورکس اور مذہبی شدت پسندی کے فکری ڈھانچے پر ایک چیلنج ہے۔ مبصرین نے ریاستی اداروں، تحقیقاتی کمیشنوں اور مذہبی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ویدیوی دستاویز کی بنیاد پر مکمل، شفاف اور قانونی تفتیش کریں تاکہ الزامات کی سچائی معلوم ہو اور اگر جرم ثابت ہوا تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔







