اپزیشن لیڈر محمد کاظم میثم کی سوست تنازعہ پر پہاڑی احتجاج کی دھمکی
شیعیت نیوز : قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی محمد کاظم میثم نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی معدنیات وہاں کی عوام کی ملکیت ہے، کس کے باپ کی نہیں۔ وفاق کی جانب سے معدنیات کی سرمایہ کاری کے نام پر امریکی پراکسی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ اس عمل کو نہیں روکا گیا تو ملاقات پہاڑوں میں ہوگی۔ پاک چین بارڈر سوست کے تاجروں کا مطالبہ صرف ان کا نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کی عوام کا مطالبہ ہے، ہم گولی اور پروپیگنڈا سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات پر وفاق یا کسی ادارے نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو بھرپور تحریک چلائیں گے۔ گلگت بلتستان کی عوام 78 سالوں سے پاکستان سے الحاق کی بات کر رہی تھی تو متنازعہ کہا جاتا رہا، ہمیں متنازعہ کہا گیا — ہمیں یو این قراردادوں کے مطابق بنیادی حقوق دیے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کے ممبر اسمبلی و اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان کاظم میثم نے اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام 78 سالوں سے بنیادی اور آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ ماضی میں مختلف فورمز پر آواز بلند کرتے رہے لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔ جی بی کی عوام نے ڈوگروں کو بھگایا اور اپنی آزادی خود لی اور الحاق پاکستان کیا مگر صلے میں مسئلہ کشمیر کے ساتھ نتھی کیا گیا۔ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی، سینیٹ، سپریم کورٹ، این ایف سی سمیت مالیاتی اداروں میں نمائندگی اور حصہ نہیں دیا گیا۔ گلگت بلتستان میں اس وقت ہر جگہ احتجاج چل رہا ہے؛ سیلاب اور قدرتی آفات نے تباہی مچائی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے چار ارب کا اعلان تو کیا مگر اس پر اب تک عملدرآمد نہیں کیا اور بہانے بنائے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں غیر قانونی اور مسلط کردہ انجینیئرنگ کے ذریعے لائی گئی حکومت کی وجہ سے پورا خطہ احتجاجی بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : القسام نے غزہ میں صہیونی قیدیوں کی تصاویر شائع کر دیں، موت کے خطرات کا انتباہ
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سوست بارڈر پر جو مسائل ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تاجر دو ماہ سے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں؛ ان کے مطالبات حل کرنے کی بجائے وفاقی حکومت تاجروں کو ڈرا دھمکا کر یا پروپیگنڈہ کر کے احتجاج ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان و گلگت بلتستان کی واحد چین سے تجارت سوست پورٹ کے ذریعے ہوتی تھی، اسے بھی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاق تاجروں کو مس ہینڈل کر رہی ہے، ایف سی کو وہاں بھیج کر گولیاں برسائی جا رہی ہیں جبکہ میڈیا کے ذریعے الزام تراشیاں جاری ہیں۔ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ سوست پورٹ پر تاجروں کا مطالبہ گلگت بلتستان کی عوام کا مطالبہ ہے۔ آج ہم ڈیکلئر کر رہے ہیں: اگر اپنے حقوق کی بات کرنا شرپسندی ہے تو پھر ہم شرپسند ہیں۔ گلگت بلتستان کے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی معیشت کا تعلق سوست پورٹ سے ہے۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے ریاست نے جب فیصلہ کیا تھا کہ یہ خطہ متنازعہ ہے تو پھر ہمیں یو این کی قراردادوں کے تحت حقوق دیے جائیں۔ ایسے لوگ جو جائز حقوق کی بات کرتے ہیں، انہیں شرپسند کہنے والوں کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ایسا پروپیگنڈہ کرنے والے لوگ وفاق اور گلگت بلتستان کے درمیان دوریاں کرانا چاہتے ہیں۔
وفاقی حکومت ہوش کے ناخن لے؛ اب کی بار اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو حالات کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہوگی۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی احتجاج چل رہا ہے جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں؛ عوام کو حقوق ملنے چاہئیں۔ گلگت بلتستان کو ڈنڈے کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حصہ بنایا گیا اور اب ڈنڈے برسائے جا کر اسے پاکستان کا حصہ کہنا چاہا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی عوام سے گزارش ہے کہ احتجاج آئین و قانون کے مطابق کریں — پرامن احتجاج کے ساتھ گلگت بلتستان کی عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ کشمیری رہنماؤں کی جانب سے بارہ نشستیں گلگت بلتستان کو دینے کی بات کو ہم سراہتے ہیں، مگر اس کا فیصلہ گلگت بلتستان کی عوام کریں گی کہ کیا ہم یہ نشستیں لیں گے یا نہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے گلگت بلتستان میں معدنیات کے حوالے سے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے؛ یہاں کسی امریکی یا اس کی پراکسی کو آنے نہیں دیں گے۔ امریکہ نے جہاں قدم رکھا وہاں برا حال کیا ہے۔ وفاق گلگت بلتستان کی حساسیت کو مدِ نظر رکھے اور امریکہ کی پراکسی نہ بنے۔ گلگت بلتستان کی معدنیات کسی کے باپ کی نہیں، صرف گلگت بلتستان کی عوام کی ہے۔ وفاق کی جانب سے معدنیات سے متعلق جو بل بھیجا گیا ہے اسے جب تک ہم اسمبلی میں ہیں کسی صورت پاس نہیں ہونے دیں گے۔ اگر کسی نے انجینیئرنگ کے ذریعے بل پاس کرنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ پہاڑوں پر ملاقات ہوگی۔ معدنیات کے معاہدوں کے حوالے سے وہاں کی عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا؛ ہم کسی صورت اسے قبول نہیں کریں گے۔







