غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی محرومی ہمارے معاشرے کے بڑے چیلنجز ہیں، علامہ مقصود علی ڈومکی
شیعیت نیوز : مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ مقصود علی ڈومکی کی زیر صدارت ڈومکی قبیلے کے معززین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی 40 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اس لیے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان محروم اور غریب طبقات کے لیے عملی اقدامات کریں۔ آج ملک میں نوجوانوں کی اکثریت بے روزگار ہے، اپنے شہر اور محلے کے ان بے روزگار لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہر اور ملک کے ہزاروں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ ان بچوں کو اسکولوں تک لانا، بالخصوص یتیم، غریب اور بے سہارا بچوں کی سرپرستی کرنا اور ان کے لیے کتابیں اور کاپیاں مہیا کرنا ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مجلس وحدت مسلمین فیصل آباد کی کابینہ کا فلڈ ریلیف مشن، متاثرین تک امداد پہنچائی گئی
علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ عید میلاد النبی ﷺ اور ہفتہ وحدت کے موقع پر ہمارا پیغام اتحادِ امت ہے۔ شیعہ، سنی، دیوبندی اور بریلوی سب بھائی بھائی ہیں، صدیوں سے اس سرزمین پر ہم سب اکٹھے رہتے آئے ہیں۔ جو لوگ فرقہ واریت کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتے ہیں وہ یا تو نادان ہیں یا دشمن کے ایجنٹ ہیں۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نو نومبر یومِ اقبال کے موقع پر "فروغِ تعلیم و خدمتِ انسانیت کانفرنس” میں نہ صرف برادری بلکہ وسیع پیمانے پر ملک و ملت کے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔ اس کانفرنس میں ان شخصیات کو بھی اعزازات پیش کیے جائیں گے جنہوں نے مختلف میدانوں — خصوصاً تعلیم، سماجی خدمت اور عوامی بہبود — میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
اجلاس کے آخر میں میڈیا ترجمان نثار احمد گرگیج نے بتایا کہ یہ کانفرنس ایک اہم اجتماع ہوگا، جس سے اتحاد، تعلیم کے فروغ اور خدمتِ انسانیت کا پیغام عام ہوگا۔ اس میں ملک بھر سے نامور شخصیات کی شرکت متوقع ہے، اور یہ اجتماع قومی یکجہتی اور اخوت کا عملی مظہر ثابت ہوگا۔
اجلاس میں شریک معززین میں حاجی شاہ مراد ڈومکی، استاد عبدالفتاح ڈومکی، احمد علی خان ٹالانی، استاد رفیق احمد ڈومکی، منصب علی ڈومکی، ریاض علی ڈومکی، سجاول علی ڈومکی اور علامہ سیف علی ڈومکی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ شرکاء نے اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر غریب طلباء و طالبات میں اسکول بیگز، کاپیاں اور پنسلیں بھی تقسیم کی گئیں۔







