اسلام نے خواتین کے حقوق کو سماجی اور قانونی بنیاد فراہم کی، زہرا روح‌اللہی امیری

20 اگست, 2025 19:00

شیعیت نیوز : باقر العلوم (ع) یونیورسٹی کی علمی کمیٹی کی رکن محترمہ زہرا روح‌اللہی امیری نے "پیامبر رحمت، الگوی ممتاز زندگی بشر” کے عنوان سے منعقدہ نشست میں "سیرتِ پیغمبر اسلام میں حقوق زنان” کے موضوع پر خطاب کیا۔

انہوں نے کہا: اسلام دیگر ادیان الٰہی کی طرح اعتقادی و اجتماعی میدانوں میں اصلاح کا خواہاں ہے۔ انہی میں سے ایک اہم میدان "حقوق خواتین” ہے؛ ایسے حقوق جو جزیرہ العرب اور اس کے آس پاس خطوں میں کم توجہ پاتے تھے اور خواتین کو سماجی ڈھانچوں میں مناسب مقام حاصل نہ تھا۔ اسلام نے خواتین کے تمام سماجی اور اجتماعی حقوق کو مستحکم کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی بزرگی خدا کی نعمت پر شکر ہے، تکبر نہیں، آیت اللہ جوادی آملی

حوزہ علمیہ خواہران کی اس استاد نے خواتین کے حقوق کے کثیر الجہتی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: یہ میدان ایک طرف "قانونی ابعاد” رکھتا ہے جو شریعت کے احکام سے ماخوذ ہیں اور دوسری طرف "سیرت و اقوال پیغمبر اکرمؐ” میں قابلِ مشاہدہ ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کریم، سنت نبوی اور تاریخ اسلام، خواتین کے حقوق کے بنیادی منابع شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے "حق” کی تعریف کرتے ہوئے کہا: حق وہ اختیار ہے جسے قانون افراد کے لیے تسلیم کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر انسان کسی عمل کو انجام دے سکتا ہے یا ترک کرسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، حق وہ قانونی قدرت ہے جس کے ذریعے شخص کسی چیز سے منتفع ہوتا ہے یا کسی کام کی ذمہ داری لیتا ہے یا کسی فعل کو ترک کرتا ہے۔

باقر العلوم (ع) یونیورسٹی کی اس رکن نے حقوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا:

  • حقوق اخلاقی: جو کمزور اور غیر الزامی ہوتے ہیں۔

  • حقوق قانونی: جو ضمانتِ اجرا رکھتے ہیں اور ان پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سماجی ردعمل اور قانونی تعاقب سامنے آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقوق کو حقوق عمومی اور حقوق اختصاصی میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ حقِ اختصاصی زیادہ تر معاہدے یا پیمان سے جنم لیتا ہے، جیسے عقد نکاح، جبکہ حقِ عمومی ہر انسان کو بطور انسان حاصل ہے اور کسی فرد کی مرضی پر موقوف نہیں ہوتا۔

علومِ تاریخ کی اس محققہ نے جزیرہ نما عرب کے جغرافیائی اور سماجی حالات بیان کرتے ہوئے کہا: پانی کی کمی اور وسائل کی ناپیدی نے قبائل کو تقسیم کر رکھا تھا اور مرکزی حکومت و قانون کمزور تھا۔ نتیجتاً قبائلی روایات ہی خواتین کی حیثیت طے کرتی تھیں۔ اس ثقافت میں عورت کی حیثیت متضاد تھی؛ ایک طرف کمزور اور بے سہارا خواتین سخت پابندیوں کا شکار تھیں، اور دوسری طرف بعض خواتین سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ کی مالک تھیں۔

11:04 شام اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔