پنجاب حکومت کی ناصبیت عروج پر، مذہبی آزادی پر پابندی — اربعین امام حسینؑ کے موقع پر ذاکرین و مومنین پر ایف آئی آر
شیعیت نیوز : پنجاب حکومت پر اربعینِ امام حسینؑ کے موقع پر مذہبی آزادی پر قدغن لگانے اور عزادارانِ حسینی کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ خوشاب کے تھانہ صدر میں درج ایف آئی آر نمبر 2681/25 کے مطابق پولیس نے 1 محرم تا 30 محرم کے جلوسوں اور مجالس میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال، مقررہ وقت سے تجاوز اور “ضابطۂ اخلاق” کی مبینہ خلاف ورزی کو جواز بنا کر ذاکرین و خطباء اور متعدد مومنین کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
ایف آئی آر میں دفعات 341، 188، 149 تعزیراتِ پاکستان، پنجاب میٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 اور پنجاب ساؤنڈ سسٹمز (ریگولیشن) ایکٹ 2015 شامل کی گئی ہیں۔ مدعی اےچ سی/790 محمد یوسف کی رپورٹ کے مطابق مختلف محلوں میں ہونے والی مجالس و جلوس میں تقاریر اور ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کو “خلاف ورزی” قرار دے کر درجنوں نامزد افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ عزادار حلقوں نے اس اقدام کو مذہبی آزادی پر حملہ اور عزاداریِ سیدالشہداءؑ کو دبانے کی متعصبانہ روش قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اربعین واک منڈی بہاؤالدین: علامہ سید علی اکبر کاظمی کی شرکت اور ضریح مبارک کھول دی گئی
مذہبی و سماجی رہنماؤں نے مؤقف اپنایا کہ عزاداری آئینِ پاکستان کے تحت حاصل بنیادی مذہبی حق ہے اور اربعین کے ایّام میں لاؤڈ اسپیکر کے معتدل استعمال کو جرم بنا کر ملتِ جعفریہ کو ہراساں کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے مقدمات کے فوری اخراج، بلاوجہ پابندیوں کے خاتمے اور عزاداری کے روٹس و مجالس کے لیے شفاف، غیرمتbiased طریقۂ کار اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔







