گلگت بلتستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کاظم میثم کا وکلا دھرنے کی حمایت کا اعلان
شیعیت نیوز : اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آٹھ مہینوں سے بائیکاٹ اور برسراحتجاج وکلا کے مطالبات مستقل دھرنے سے قبل تسلیم کیے جائیں۔ صوبائی حکومت کی یقین دہانی کے باوجود مسائل حل نہ ہونا انتہائی شرمناک عمل ہے۔ حکومت میں موجود معزز اراکین اسمبلی جن کا تعلق وکلا برادری سے ہے انہیں کردار ادا کرکے فوری مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ اپوزیشن اراکین وکلا کے دھرنے کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے تمام مطالبات جائز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جی بی عدالتیں خالی پڑی ہیں جس کے سبب انصاف کا عمل جمود کا شکار ہے۔ سیاسی بنیادوں پر یا اداروں کی شہہ پر ججوں کی تعیناتی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور اہلیت کی بنیاد پر تعیناتی ناگزیر ہے۔ سول ججز کی خالی اسامیوں پر ایف پی ایس سی کے ذریعے تقرریاں عمل میں آنی چاہییں۔ گلگت بلتستان کے تمام اداروں کو لیگل ایڈوائزر رکھوانے کا پابند بنانا بنیادی اور اہم ترین مطالبہ ہے۔ عدالت عالیہ میں ایڈیشنل سیشن ججز اور ڈسٹرکٹ ججز کی تقرریاں عمل میں لانی چاہییں۔ ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل کی پوسٹیں، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنیز اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرز کی پوسٹوں کو خالی رکھنا وکلا کے ساتھ ناانصافی ہے، اسے میرٹ اور ٹیسٹ کی بنیاد پر پُر کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ احمد اقبال رضوی کا تحریک لبیک کے کیمپ پر استقبال؛ اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ لیبر کورٹس کا قیام ہو یا ڈسٹرکٹ بارز کی عمارتوں کی تعمیرات، یہ وہ مطالبات ہیں جن کو حل کرنا وکلا سے زیادہ حکومت کی ضرورت ہے۔ ماضی کی طرح غیر منصفانہ انداز میں ججز کی تعیناتی اور ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام ریجنز کو سامنے رکھ کر عدل و انصاف کے ساتھ تقرریاں ہونی چاہییں۔ ماضی کے متنازعہ ججوں کو گلگت بلتستان میں دوبارہ لا کر مسلط کرنے کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ گلگت بلتستان کے عوام پر اعتماد کیا جائے۔ سستا انصاف فراہم نہ کرنے والا معاشرہ تباہی و بربادی کی گہری کھائیوں میں جا گرتا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر تقرر ہونے والے منصف سے انصاف کی توقع ہی عبث ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکلا کی جاری تحریک انتہائی خوش آئند ہے۔ حکومت وفاقی حکومت کو انگیخت کرے اور ان مسائل کا فوری حل نکالے، بالخصوص چونکہ دو اتحادی جماعتوں کے ملک میں صدر اور وزیراعظم ہیں وہ وکلا کے درمیان تقریریں کرنے کے بجائے اپنے قائدین سے مسئلہ حل کرائیں۔ عدالتیں معاشرے کا بنیادی رکن اور ریاست کا اہم ترین عنصر ہیں، لہٰذا ان کی فعالیت کے لیے وفاق کو توجہ دینا ہوگی۔ عدالتوں کو حقیقی معنوں میں انصاف کرنے دیا جائے تو ایسا معاشرہ انسانی اقدار سے بہترین معاشرہ کہلاتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ وکلا برادری کے بغیر عدالتیں فعال نہیں رہ سکتیں۔ وکلا ہی عدالتوں کا پرتو ہوتے ہیں اور عام انصاف کے متلاشی عوام کی امید ہوتے ہیں۔ ان کے مسائل کا حل عوام کے مسائل کا حل ہے، لہٰذا ہم وکلا برادری کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔







