غزہ کا المیہ، دنیائے اسلام کے لیے تاریخی امتحان ہے، علمائے دین اور اسلامی حکومتیں عملی اقدام کریں: آیت اللہ نوری ہمدانی
شیعیت نیوز : بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دنیائے اسلام کی عظیم اقوام، علمائے کرام، مسلم حکومتیں اور آزاد منش انسان!
وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِی الدِّینِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ۔ (سورۂ الأنفال، آیت 72)
انسانی ضمیر اور پاک فطرتوں کو، ایک مرتبہ پھر بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کی ہولناک اور شرمناک جارحیت نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج مظلوم غزہ، نہ صرف بلاجواز بمباری کی آگ میں جل رہا ہے، بلکہ غذائی، ادویات اور انسانی محاصرے میں بھی گھرا ہوا ہے۔ وسیع پیمانے پر بھوک، بچوں، عورتوں، بزرگوں اور مریضوں کی مظلومانہ شہادتیں اور دلخراش مناظر ہر آزاد انسان کے دل کو زخمی کر رہے ہیں۔
یہ اقدامات نہ صرف نسل کشی اور جنگی جرائم کی واضح مثال ہیں بلکہ کسی بھی انسانی، قانونی، شرعی یا بین الاقوامی معیار سے ان کا کوئی جواز ممکن نہیں۔ غزہ کے مظلوم عوام کی پکار، آج علمائے اسلام، مسلم ممالک کے رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے ایک عظیم امتحان ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی قوم نے عالمی استکبار کو جھکنے پر مجبور کر دیا، آیت اللہ محسن اراکی
جب فلسطینی مظلوم قوم، خاص طور پر غزہ کے عوام کی فریاد دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے تو ہر بیدار ضمیر انسان صیہونی حکومت کے بے گناہ انسانوں پر کیے گئے مظالم پر غم و غصے میں مبتلا ہے۔ علمائے دین اور اسلامی حکومتوں کی ذمہ داری انتہائی سنگین ہو چکی ہے؛ کیونکہ نہ صرف انسانی اصول، بلکہ قرآن و سنت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف قیام کیا جائے۔
اس تاریخی اور حساس صورتحال میں، علمائے دین کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ فتوے جاری کریں، مسلمانوں کو مشترکہ دشمن کے خلاف متحد کریں، صیہونی حکومت کی بھرپور مذمت کریں اور اس کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات ختم کرنے کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کریں۔
فلسطینی قوم کی مادی و معنوی مدد کے لیے عوام کو آمادہ کریں اور آئمہ جمعہ و جماعت، دینی مدارس، جامعات اور ذرائع ابلاغ کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کریں۔ یہ دینی، سیاسی اور سماجی فریضہ ہے۔ اس میں غفلت یا تساہل دنیا و آخرت میں سخت عذاب کا باعث بنے گا۔
اسلامی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ نہ صرف اسلامی وحدت کی بنیاد پر، بلکہ انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق بھی اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار کریں۔ بدقسمتی سے بعض حکومتوں کی خاموشی یا اسرائیلی حکومت سے خفیہ و اعلانیہ تعاون لمحہ فکریہ ہے۔ ان حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ صیہونی ریاست سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کریں، بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مذمت اور سزا کا مطالبہ کریں اور غزہ کے عوام کو انسانی و طبی امداد فراہم کریں۔
علمائے دین اور اسلامی حکومتوں کی غفلت، نہ صرف ظلم کے جاری رہنے کا سبب بنے گی بلکہ عالمی سطح پر اسلام کی پوزیشن کو بھی کمزور کرے گی۔ امت کی بیداری اور وحدت اسلامی صرف مظلوموں کی عملی حمایت سے ممکن ہے۔ آج کی نسل علما و حکمرانوں کی کارکردگی پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور خاموشی کو منافقت یا دینی ارادے کی کمزوری سمجھتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ دنیائے اسلام کی تمام سچی اور زندہ قوتیں، علما، دانشور اور حکمران، اپنے اختلافات کو ترک کر کے غزہ کے مظلوموں کی حمایت میں اپنی اسلامی و انسانی ذمہ داریاں ادا کریں۔ امت مسلمہ کی بیداری، عدالت پسندی اور ہم آہنگ عمل ہی نجات کا راستہ ہے۔
غزہ کا المیہ محض ایک انسانی بحران نہیں، بلکہ دنیائے اسلام کے لیے ایک تاریخی آزمائش ہے۔ علمائے اسلام کو بیداری کی تحریک میں پیش قدم ہونا چاہیے، اور اسلامی حکومتوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی اسلامی ہیں۔ اگر آج بہتے پاکیزہ خون پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل کسی اور خطے کی باری آئے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ مظلوموں کی مدد اور ظالموں کی نابودی کا وعدہ الٰہی وعدہ ہے:
إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ۔ (سورۂ الأنعام، آیت 135)
والسّلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
حسین نوری ہمدانی







