گلگت بلتستان پر جبر یا شراکت؟ سینیٹر راجہ ناصر عباس کا حکومت کو انتباہ
شیعیت نیوز: چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے گلگت بلتستان کی آئینی و معاشی محرومیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطہ، جو دفاعی، تزویراتی اور معاشی اعتبار سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع ہونے کے باوجود مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین، بھارت اور افغانستان سے ملتی ہیں، لیکن دیگر پاکستانی علاقوں کی طرح اس خطے کو سرحد پار روابط اور تجارت کی اجازت نہیں۔ صرف "شاہراہ قراقرم” ہی چین سے تجارتی راستہ فراہم کرتی ہے، جو بھی اب مقامی تاجروں کے لیے بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وحدت یوتھ کی تربیتی ورکشاپ اختتام پزیر،علامہ راجہ ناصر کی اختتامی تقریب میں شرکت
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے گلگت بلتستان کی متنازع حیثیت کے برعکس غیر قانونی ٹیکسز کا نفاذ معاشی استحصال ہے۔ سوست بارڈر پر جاری تاجر احتجاج کو حکومت کی طرف سے گرفتاریوں، دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے دبانے کی کوشش، عوامی غصے میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام، جنہوں نے اپنی سرزمین کو آزاد کر کے پاکستان سے الحاق کیا، آج بھی آئینی شناخت اور معاشی انصاف کے منتظر ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بارڈر کی بندش عالمی طاقتوں کا دیرینہ خواب ہوسکتا ہے، لیکن اگر مقامی حکومت و ادارے بھی ایسی ہی پالیسیاں اپنائیں گے تو وہ نادانستہ طور پر دشمن ایجنڈے کی تکمیل کریں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا:
-
تاجروں کے مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے
-
جی بی کو خصوصی کسٹم مراعات دی جائیں
-
بارڈر ٹریڈ میں جی بی کے تاجروں کو ترجیح دی جائے
-
آئینی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے
انہوں نے کہا کہ اس وقت فیصلے کا لمحہ ہے — "جبر یا شراکت؟ محرومی یا خودمختاری؟” اگر دیر کی گئی تو نقصان صرف گلگت بلتستان کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہوگا۔







