ایرانی آپریشن کے بعد اسرائیل شدید اقتصادی بحران کا شکار، بے روزگاری 10 فیصد سے متجاوز
شیعیت نیوز : ایران کی جانب سے "وعده صادق 3” آپریشن کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کیے گئے جوابی حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔
معروف اقتصادی جریدہ کالکاسیت کے مطابق جون 2025ء کے دوران مقبوضہ علاقوں میں بے روزگاری کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صہیونی ادارۂ شماریات کے مطابق مئی میں بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد تھی، جب کہ جون میں یہ اچانک بڑھ کر 10.1 فیصد تک جا پہنچی۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 4 لاکھ 65 ہزار افراد روزگار سے محروم ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف جون کے مہینے میں 2 لاکھ 92 ہزار افراد بیروزگار ہوئے۔
کالکاسیت نے ان اعداد و شمار کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ یہ مکمل طور پر مستقل بے روزگاری نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ملازمین کو عارضی طور پر برخاست کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی دہشتگردی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، صحافی فائزہ محمد
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی معیشت میں افرادی قوت کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ مئی میں یہ شرح 61 فیصد تھی، جو جون میں کم ہو کر 56.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ کمی بھی ایک ماہ کے اندر اندر پیش آئی ہے، جو کہ معیشت میں جمود کی علامت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اسرائیل کی معیشت ایک تاریخی بحران سے دوچار ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی، کاروبار کی معطلی اور عوام کا احساسِ عدم تحفظ ہے۔
اسرائیلی اقتصادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ بحران طویل المدت شکل اختیار کر گیا، تو معیشت کو دوبارہ سنبھالنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔







