انقلاب اسلامی سامراجی خباثتوں کے خلاف درخشاں نظام ہے: علامہ سید ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امریکی صدر کے ایران مخالف بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی نظام غلامی، سمجھوتوں، نام نہاد مفادات، بدترین بندر بانٹ، قبیح سودے بازی، تباہ کن سمجھوتوں، معاشی بدمعاشی، نئے انداز کی غلامی، ڈیلنگ اور حقوق سے دستبرداری جیسے خباثتوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی انہی خباثتوں کے خاتمے اور سماجی مساوات، مذہبی اقدار، باہمی احترام کے نظریے کے ساتھ برپا ہوا اور اب بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے۔ لیکن متلون مزاج سامراجی صدر نے بغیر سوچے سمجھے یہ بیان داغ دیا کہ "اگر ایران نے عالمی نظام سے علیحدگی اختیار کی تو اس کی حالت خراب ہوگی”۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ برادر اسلامی ملک ایران نے گزشتہ 45 سال سے عالمی غلامی اور جبری نظام کے خلاف سخت ترین پابندیوں اور ناکہ بندی کی قربانیاں دے کر جبر کو پہلے بھی قبول نہیں کیا تھا اور نہ ہی اب کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ محارب اسلام ہے، آیت اللہ خامنہ ای کا دفاع جہاد فی سبیل اللہ ہے، آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی
ان کا کہنا تھا کہ سامراج و استعمار یہود و ہنود کے ذریعے جبراً ایک نئے انداز میں نظامِ غلامی نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ جنگ عظیم دوئم سے قبل اور بعد میں نام نہاد حکومتیں مسلط کی گئیں، بڑی ریاستوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ نوآبادیاتی مفادات حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی نام نہاد عالمی نظام نئے انداز کی غلامی، سمجھوتوں، نام نہاد مفادات، بدترین بندر بانٹ، قبیح سودے بازی، معاشی بدمعاشی، خوبصورت مگر خطرناک انداز کی ڈیلنگ اور حقوق سے دستبرداری جیسے خباثتوں کو متعارف کرا کر انہیں "ورلڈ آرڈر” کے تحت نافذ کرتا رہا ہے۔ اس کی واضح مثال مشرق وسطیٰ میں ناجائز اسرائیلی ریاست کا قیام اور "ابراہم اکارڈ” جیسے معاہدے ہیں جن پر بعض حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اسی عالمی سازشی نظام کے خلاف 1979ء میں انقلاب اسلامی برپا ہوا، مگر ضمیر فروش عناصر اور سمجھوتوں و سودے بازی کی فضا میں پروان چڑھنے والے اس انقلابی نظام کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ہی ماحول میں پلے بڑھے احمق سامراجی صدر نے ناکام و نامراد جارحیت کے بعد بلا سوچے سمجھے نظامِ انقلاب کے خلاف بیان دے دیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اپنی آب و تاب کے ساتھ بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے، جو ایران کے ساتھ پورے خطے میں پائیدار امن، استحکام، بھرپور دفاع اور قوت کے طور پر زبردست انداز میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہی ایران کے درخشندہ مستقبل کی ضمانت ہے۔







