نصاب تعلیم میں فرقہ وارانہ مواد کی شمولیت ناقابل قبول ہے، علامہ مقصود ڈومکی
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ نصاب تعلیم میں فرقہ وارانہ مواد کی شمولیت ناقابل قبول ہے۔
پاکستان کے کروڑوں محب اہلِ بیت شیعہ و سنی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔
1975 کے متفقہ قومی نصاب کی طرز پر نیا نصاب تعلیم ترتیب دیا جائے۔
کوئٹہ میں متنازعہ نصاب تعلیم پر ملت جعفریہ کے تحفظات کے حوالے سے صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔
جس میں ماہرین تعلیم، اساتذہ، علماء، وکلاء و دیگر اہم شخصیات کو دعوت دی گئی ہے۔
وطن عزیز کے تعلیمی نصاب میں دانستہ طور پر ایسے افکار و مضامین شامل کیے جا رہے ہیں جو تکفیری نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں اور اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والے کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کے عقائد اور جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔
یہ عمل نہ صرف شیعہ مسلمانوں کے لیے باعث اذیت ہے بلکہ وہ تمام اہل سنت برادران جو اہلِ بیت (ع) سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ تشویش کا باعث ہے۔
یہ ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کو فرقہ واریت کی دلدل میں دھکیلنا اور پاکستان کے وحدت و اخوت کے ماحول کو نقصان پہنچانا ہے۔
نصاب تعلیم کا مقصد نوجوانوں کی فکری، اخلاقی اور ملی تربیت ہونا چاہیے، نہ کہ ایک مخصوص مسلک یا مکتب فکر کے خلاف نفرت پھیلانا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں، بالخصوص وزارت تعلیم، فوری طور پر متنازعہ اور فرقہ وارانہ مواد کو نصاب سے خارج کرے۔
یہ بھی پڑھیں : حوزہ علمیہ قم کی صد سالہ تقریبات، آیت اللہ اعرافی کی پریس کانفرنس تہران میں منعقد
مجلس وحدت مسلمین اس سلسلے میں مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔
اس مسئلے پر علماء، کرام خطباء و ذاکرین، ماہرین تعلیم، تنظیمی ذمہ داران اور مختلف طبقات کے ساتھ وسیع تر مشاورت کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ قومی سطح پر متفقہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
متنازعہ نصاب تعلیم پر ملت جعفریہ کا نقطہ نظر واضح کرنے اور وسیع تر قومی مشاورت اور عوام میں شعور بیداری و آگہی مہم کے حوالے سے ملک بھر کے اہم مقامات نصاب تعلیم کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
اسی سلسلے میں 9 مئی کو کوئٹہ میں متنازعہ نصاب تعلیم پر ملت جعفریہ کے تحفظات کے حوالے سے صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔
جس میں علماء کرام، ماہرین تعلیم، وکلاء، معاشرے کے تمام طبقات کے سنجیدہ افراد کو دعوت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے تمام محب اہلِ بیت، شیعہ و سنی علماء، اساتذہ، والدین اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور اس مہم میں مجلس وحدت مسلمین کا ساتھ دیں۔







